بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی پر پابندی عائد

Image caption جماعتِ اسلامی نے انتخابات میں اپنی شرکت کو خطرے میں ڈال لیا ہے، ہائی کورٹ

بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے ملک کی اہم مذہبی سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی کی رجسٹریشن کو منسوخ کرتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے آئندہ برس ہونے والے انتخابات کے قواعد کو توڑا ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا کر کے جماعتِ اسلامی نے انتخابات میں اپنی شرکت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی اپنے منشور میں ترمیم کرے اور انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے نئے سرے اپنی جماعت کا اندارج کروائے۔

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے سابق رہنما کو سزائے موت

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے رہنما گرفتار

بنگلہ دیش:جماعتِ اسلامی کے ایک اور رہنما کو سزا

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے جن سینئیر رہنماؤں نے سنہ انیس سو اکہتر میں پاکستان سے علیحدگی کی مخالفت کی تھی انھیں جنگی جرائم کا سامنا ہے۔

بنگلہ دیش میں ان رہنماؤں کے خلاف دیے جانے والے فیصلوں کی وجہ سے پر تشدد مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش میں ججوں کا ایک پینل ایک پیٹیشن پر غور کر رہا ہے جس میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ جماعتِ اسلامی جو کہ ایک مذہبی جماعت ہے ملک کی آزادی اور خود مختاری پر یقین نہیں رکھتی۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے منشور میں کچھ ایسے نکات ہیں جو بنگلہ دیش کے آئین کے خلاف ہیں۔

بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے اس پیٹیشن کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن جو ملک میں آئندہ برس ہونے والے انتخابات کا ذمہ دار ہے نے عدالتی فیصلے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک وکیل شاہ دین ملک نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’اگر جماعتِ اسلامی اپنے منشور میں ترمیم کر کے اسے بنگلہ دیش کے آئین کے مطابق کر لے تو وہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتی ہے‘۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے چار رہنماؤں کو انسانیت کے خلاف جرائم پر موت کی سزا سنائی ہے۔

جماعتِ اسلامی نے سنہ انیس سو اکہتر میں آزادی کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور اس پر پاکستانی فوج کی حمایت اور پاکستانی فوجیوں کے مبینہ جرائم میں شریک ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دسمبر سنہ انیس سو اکہتر تک موجودہ بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور اسے مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا۔

تاہم سنہ انیس سو اکہتر کے اوائل میں علیحدگی کے لیے شروع ہونے والی لڑائی نو ماہ تک جاری رہی جس کے دوران بنگلہ دیش کے قوم پرستوں کے مطابق تیس لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے اور سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کو بنگلہ دیش ایک الگ ملک بن گیا تھا۔

اسی بارے میں