تیسری جنگِ عظیم اور ملکۂ برطانیہ کا خطاب

Image caption حکومت نے اس دستاویز کو تیس سال بعد سرکاری معلومات عام کرنے کے قانون کے تحت جمعرات کو جاری کیا

ملکۂ برطانیہ کے قوم کو 1983 میں فرضی خطاب کا متن سامنے آیا ہے جس میں ملکہ نے برطانوی عوام کو ایٹمی جنگ کی صورت میں متحد اور پْرعزم رہنے کی تلقین کی ہے۔

وائٹ ہال کے حکام کی طرف سے سرد جنگ کے مشکل ترین دور میں تیار کردہ یہ تقریر نہ تو کبھی ریکارڈ کی گئی اور نہ ہی نشر ہوئی تھی۔

یہ تقریر 1983 کے موسمِ بہار میں جنگی مشقوں کے حصے کے طور پر تیار کی گئی تھی۔

اس فرضی تقریر کے متن کے مطابق برطانوی ملکہ نے اس وقت ’بہادر ملک‘ کو درپیش خطرے کو تاریخی قرار دیا تھا۔

حکومت نے اس دستاویز کو 30 سال بعد سرکاری معلومات عام کرنے کے قانون کے تحت جمعرات کو عوامی سطح پر جاری کیا۔

اگرچہ یہ صرف ایک مشق ہی تھی لیکن ملکہ کے خطاب کو اس طرح لکھا گیا تھا کہ یہ جمعہ چار مارچ 1989 کی دوپہر کو نشر ہو۔ اس خطاب میں قوم کو تیسری عالمی جنگ کے دوران پیش آنے والے شدید مشکلات کے لیے تیار کرنا تھا۔

ملکۂ برطانیہ کے فرضی تقریر کے متن کے میں لکھا ہے: ’اب جنگ کا پاگل پن دنیا میں مزید پھیل رہا ہے اور ہمارے بہادر ملک کو دوبارہ شدید مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ضرور تیاری کرنی چاہیے۔‘

خطاب میں مزید کہا گیا: ’مجھے وہ افسوس ناک اور ساتھ ہی ساتھ قابلِ فخر دن نہیں بھولا جب 1939 میں دوسری جنگِ عظیم کے آغاز پر میں اور میری بہن ریڈیو پر اپنے والد جارج ہشتم کی پْرجوش تقریر سن رہی تھیں۔

’میں نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یہ سنگین اور خوفناک ذمے داری مجھے نبھانی ہوگی۔‘

’ہمیں دہشت کا سامنا ہے۔ جن خصوصیات کی بدولت ہم نے اس اداس صدی میں دو دفعہ اپنی آزادی کو قائم رکھا، وہی اقدار ایک بار پھر ہماری طاقت ہوں گی۔‘

خطاب میں ایک ذاتی بات کرتے ہوئے کہا گیا: ’میں اور میرے شوہر ملک کے تمام خاندانوں کا ملک کی خدمت میں گئے اپنے بیٹوں، بیٹیوں، شوہروں اور بھائیوں کے لیے خدشات میں شریک ہیں۔

’میرا پیارا بیٹا اینڈریو اس وقت اپنے یونٹ کے ساتھ میدانِ جنگ میں ہے۔ ہم ان کی اور ملک کے اندر اور باہر فوجی خدمات دینے والے تمام مرد و خواتین کی حفاظت کے لیے مسلسل دعاگو ہیں۔

’اگر خاندان متحداور پْرعزم رہیں اور غیر محفوظ اور اکیلے رہنے والوں کو پناہ دیں تو ہمارے جینے کے حوصلے کو مات نہیں دی جا سکتی۔‘

تقریر میں کہا گیا کہ ’اب جب ہم ایک نئے شیطان کے خلاف برسرِپیکار ہیں، آئیں اپنے ملک اور اچھے ارادے رکھنے والے افراد کے لیے جو چاہے کہیں بھی ہوں، دعا کریں۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو‘۔

اس وقت کی جنگی مشقوں میں سوویت یونین اور اس کے وارسا پیکٹ کے اتحادیوں کے بلاک کی نمائندگی نارنجی رنگ کی افواج کر رہی تھیں جبکہ نیلے رنگ کی فوج نیٹو کی نمائندگی کر رہی تھیں۔

مشقوں کے دوران جب نارنجی فوج برطانیہ پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرتی ہے تو نیلی فوج جوابی حملے میں ’محدود پیمانے پر ایٹمی‘ ہتھیار استعمال کرکے نارنجی کو مصالحتی عمل شروع کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

یہ مشقیں اس سال ہوئی تھیں جس سال امریکی صدر رونالڈ ریگن نے سوویت یونین کو ’شیطانی ریاست‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں