امریکہ: خواتین کو قیدی بنانے پر عمر قید

Image caption میں بیمار اور سیکس کا عادی تھا: کاسترو

ایک امریکی عدالت نے تین خواتین کو تقریباً ایک دہائی تک قیدی بنانے پر ایک شخص کو عمر قید اور ایک ہزار سال قید کی اضافی سزا سنائی ہے۔

مجرم ایریل کاسترو نے ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں تین خواتین کو دس سال تک قید کیے رکھا۔

عدالت نے کاسترو کو اغواء ریپ اور ایک خطرناک قاتل سمیت سینکڑوں الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔

امریکہ: دس سال سے لاپتہ خواتین بازیاب

ہر پانچویں امریکی عورت جنسی تشدد کا شکار

جج نے جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایریل کاسترو بہت ہی خطرناک ہیں اور ان کو چھوڑا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ خود کو متاثرہ شخص سمجھتے ہیں۔

تین خواتین میں سے ایک متاثرہ خاتون مشیل نائٹ نے عدالت میں بتایا کہ انہوں نے گیارہ سال جہنم میں گزارے لیکن اب وہ اس سے باہر نکل پائیں گی کیونکہ وہ ( کاسترو) اب ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔

ایریل کاسترو نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ وہ عجيب الخلقت نہیں ہیں اور وہ بیمار اور سیکس کے عادی تھے۔

بتیس سالہ مشیل نائٹ عدالت میں بیان دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔ متاثرین کے بیان کے مطابق مجرم نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر رکھا اور کئی کئی بار ریپ کیا۔

مشیل نائٹ، ستائیس سالہ امانڈا بیری اور 23 سالہ جینا دے ہیسوس کو مئی میں اس وقت بازیاب کرایا گیا جب ان میں سے ایک مجرم کے مکان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

Image caption بتیس سالہ مشیل نائٹ عدالت میں بیان دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں

عدالت میں صرف مشیل نائٹ نے بیان دیا اور ان کے مطابق مجرم ہر اتوار کو چرچ جاتا تھا اور اس کے بعد گھر آ کر ان پر تشدد کرتا تھا۔

’میں نے گیارہ سال جہنم میں گزارے، اب تمہاری جہنم شروع ہو رہی ہے، اور ہمیشہ کے لیے جہنم کا سامنا کرو گے‘۔

کاسترو نے عدالت میں ایک غير مربوط بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ان کے سیکس کے عادی ہونے کی وجہ سے ہوا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اغوا کی پوری طرح سے تحقیقات نہیں کی ہیں۔

’مجھے یقین ہے کہ میں پورن کا عادی تھا اور اس نے مجھے اکسایا اور میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ میں کچھ غلط کر رہا ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی خواتین کو اغوا کرنے کے بارے میں سوچا نہیں تھا لیکن جب پہلی متاثرہ خاتون کو اغوا کیا تو اس کے بعد یہ سب تیزی سے ہوتا گیا۔

متاثرہ خواتین کو بازیاب کرانے والی پولیس ٹیم کی ایک رکن باربرا جونسن نے عدالت میں بیان دیا کہ جب انہوں نے تاریک گھر کی تلاشی لینی شروع کی تو ان کے چہرے پر فلیشن لائٹ پڑی اور یہ ایک متاثرہ خاتون کی طرف سے تھی تاکہ وہ یقین کر لیں کہ ہم واقعی پولیس اہلکار ہیں۔

اہلکار کے مطابق مشیل نائٹ نے ایک دوسرے پولیس اہلکار کے بازوں میں گرتے ہوئے بار بار کہا کہ آپ نے ہمیں بچا لیا، آپ نے ہمیں بچا لیا۔

سپیشل ایجنٹ اینڈریو بیوک کے بیان کے مطابق مجرم ریپ کرنے کے بعد خواتین کو رقم دیتا تھا اور بعد کہتا کہ اگر کھانے پینے کے لیے کچھ چاہیے تو پیسے واپس کرو۔

Image caption کاسترو نے کلیولینڈ میں تین خواتین کو دس سال تک قید کیے رکھا

انہوں نے کہا کہ بیڈ روم کی کھڑکیاں اندر سے بند تھیں جبکہ باہر نکلنے والے دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ خواتین کو باندھنے کے لیے استعمال ہونے والی کئی بیڑیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

کاسترو نے ان تینوں خواتین کو سال دو ہزار تین اور چار میں قیدی بنایا تھا۔پہلی خاتون کو کتا دینے کے بہانے گھر میں بلایا گیا جبکہ دوسری کو اپنی بیٹی سے ملانے کے بہانے گھر بلایا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق کاسترو اپنی چھ سالہ بیٹی سے زندگی میں کبھی نہیں مل سکیں گے۔ یہ بیٹی ایک قیدی خاتون سے ہی پیدا ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ مجرم نے ایک قیدی خاتون کو پانچ بار حاملہ ہونے کے بعد اس پر اتنا تشدد کیا کہ اس کا حمل ضائع ہو گا۔

منصوبے کے مطابق جس مکان میں ان تینوں خواتین کو قیدی بنا کے رکھا گیا تھا، اس کو منہدم کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں