مصر: مغربی سفارتکاروں کی امن کی کوششیں

Image caption دھرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: اخوان المسلمین

امریکہ اور یورپی یونین کے مندوبین مصر میں حکومتی حکام اور معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات کا مقصد ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب معزول صدر کے حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے دو بڑے احتجاجی مظاہروں کو فوج کی جانب سے ختم کرنے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دھرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: اخوان المسلمین

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

مصر میں مرسی کے بعد نیا دور نئے چیلنج

مصر میں ناکام جمہوری تجربہ

چند ہی گھنٹوں کے وقفے کے ساتھ امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیئم برنز اور یورپی یونین کے سفارتکار برانارڈینو لیون نے اخوان المسلمین کے ارکان اور مصری وزیرِ خارجہ نابیل فہمی سے ملاقاتیں کیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار یولانڈا نیئل کا کہنا تھا کہ سرکاری طور پر چند ہی تفصیلات دیں گئی ہیں مگر امید یہ کی جا رہی ہے کہ مزید تشدد کو روکا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز عبوری حکومت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے احتجاجی کیمپوں کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر دیا جائے۔

معزول صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی عبوری حکومت کی جانب سے دھرنے ختم کرنے کے حکم نامے کے باوجود احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک میں یہ احتجاجی دھرنے جاری ہیں اور جمعہ کو مظاہرین نے تیسری جگہ پر بھی احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔

سنیچر کو مصری وزارتِ داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دھرنے ختم کرنا اخوان المسلمین کو جمہوری سیاسی عمل کا حصہ بننے دے گا۔

جمعرات کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مصر میں فوج نے جمہوریت بحال کرنے کے لیے صدر مرسی کو اقتدار سے الگ کیا۔

قاہرہ میں نمازِ جمعہ کے بعد مساجد سے لوگ تیس کے قریب احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے رابعہ العداویہ مسجد میں جاری دھرنے میں شامل ہو گئے۔

رابعہ العداویہ مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں مرسی کے حامیوں نے خواتین اور بچوں سمیت تین ہفتے سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے اور معزول صدر کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Image caption امریکی نائب وزیرِ خارجہ اور یورپی یونین کے سفارتکار نے مصری وزیرِ خارجہ نابیل فہمی سے بھی ملاقات کی

بدھ کو مصر کی وزیر اطلاعات دوریا شرف الدن نے ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا تھا جس کے مطابق ’کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

بیان کے مطابق’ قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک پر جاری دھرنے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی اور سڑکوں کی ناکہ بندی اب ناقابل برداشت ہے اور یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو قانون اور آئین کے مطابق دھرنے ختم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ایک ماہ سے جاری احتجاجی دھرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔

اسی بارے میں