قاہرہ: احتجاجی دھرنوں کی ناکہ بندی کا حکم

Image caption مصر میں معزول صدر کے حامیوں کے احتجاجی دھرنے تین ہفتوں سے جاری ہیں

مصر میں فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے احتجاجی کیمپوں کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر دیا جائے۔

معزول صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی عبوری حکومت کی جانب سے دھرنے ختم کرنے کے حکم نامے کے باوجود احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک میں یہ احتجاجی دھرنے جاری ہیں اور جمعہ کو مظاہرین نے تیسری جگہ پر بھی احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔

دھرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: اخوان المسلمین

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

مصر میں مرسی کے بعد نیا دور نئے چیلنج

مصر میں ناکام جمہوری تجربہ

مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مصر میں فوج نے جمہوریت بحال کرنے کے لیے صدر مرسی کو اقتدار سے الگ کیا۔

قاہرہ میں نمازِ جمعہ کے بعد مساجد سے لوگ تیس کے قریب احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے رابعہ العداویہ مسجد میں جاری دھرنے میں شامل ہو گئے۔

رابعہ العداویہ مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں مرسی کے حامیوں نے خواتین اور بچوں سمیت تین ہفتے سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے اور معزول صدر کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بدھ کو مصر کی وزیر اطلاعات دوریا شرف الدن نے ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا تھا جس کے مطابق ’کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

بیان کے مطابق’ قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک پر جاری دھرنے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی اور سڑکوں کی ناکہ بندی اب ناقابل برداشت ہے اور یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو قانون اور آئین کے مطابق دھرنے ختم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

Image caption مصر میں تین جولائی کے پرتشدد واقعات میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اس فیصلے کے خلاف اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ایک ماہ سے جاری احتجاجی دھرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔

ادھر امریکی حکومت نے مصری حکام سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ لوگوں جلوس نکالنے کے حق کا خیال کرے۔

گزشتہ سنیچر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم ستر افراد کے ہلاک ہونے کے بعد حکومت نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ دھرنے ختم کر دیں ورنہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

اخوان المسلمین کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ معزول صدر کے حامیوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ وہیں رہیں، احتجاجی دھرنے ختم کا فیصلہ ایک ایسے گروہ نے کیا جس نے ریاست پر قبضہ کر رکھا ہے اور لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق پر دھوکہ دینے کی کوشش کی رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مظاہروں کے آغاز کے ساتھ ہی مصری حکام نے معزول صدر محمد مرسی کو فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کرنے اور سنہ 2011 کی بغاوت کے دوران جیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔

مصر کی صورت حال کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے مصری فوج سے محمد مرسی کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں