جرمنی کا امریکہ سے جاسوسی کا معاہدہ ختم

Image caption امریکہ کے خفیہ راز افشاء کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے ان پروگراموں کی جانب سے تفصیلات افشا کرنے کے بعد سے جرمنی میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے

جرمنی نے سرد جنگ کے زمانے سے امریکہ اور برطانیہ سے کیاگیا ایک معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس اعلان کی وجہ ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لوگوں کی الیکٹرانک نگرانی کرنے کے خفیہ پروگرام ’پرزم‘ کی تفصیلات سامنے آنا ہے۔

امریکہ کے خفیہ راز افشاء کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے ان پروگراموں کی جانب سے تفصیلات افشا کرنے کے بعد سے جرمنی میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے جہاں اگلے مہینے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

ان معاہدوں پر 1968 اور 1969 کے درمیانی عرصے میں دستخط کیے گئے تھے اور ان کے منسوخ کرنے کا اقدام بہت حد تک علامتی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ گوئڈو ویسٹر ویلے نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس انتظامی معاہدے کی منسوخی جس کے لیے ہم ہفتوں سے کوششیں کر رہے تھے بہت ضروری تھی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے بارے میں جاری حالیہ بحثوں کے بعد ایک منطقی نتیجہ ہے‘۔

جرمن عوام کے نازی اور کمیونسٹ دورِ حکومت میں خفیہ نگرانی کے تجربات کی وجہ سے اس طرح کے اقدامات کے حوالے سے بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے۔

جرمنی میں ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین بھی بہت سخت ہیں۔

اس معاہدے کی وجہ سے مغربی ممالک جن کی فوجیں جرمنی میں موجود تھیں کو جرمنی میں موجود اپنی فوجوں کے تحفظ کے لیے نگرانی کی کارروائیوں کے کرنے کی اجازت تھی۔ ان مغربی ممالک میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔

ایک جرمن اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ یہ معاہدہ سرد جنگ کے زمانے سے موجود تھا اور اس کے منسوخ کیے جانے سے موجودہ نگرانی کے تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے رپورٹرز کو بتایا کہ یہ معاہدہ 1990 کے بعد سے زیر استعمال نہیں تھا۔

اسی بارے میں