’ہونڈوراس کی جیلیں قیدیوں کے کنٹرول میں ہیں‘

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق وسطی امریکہ کے ملک ہونڈوراس میں حکام نے جرائم پیشہ افراد کی اصلاح کو ترک کرکے جیلوں کو قیدیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

واشنگٹن میں قائم انٹر امیریکن کمیشن آف ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہونڈوراس میں جیلوں پر اس میں قید قیدیوں کا راج ہے۔

انسانی حقوق کے اس ادارے کے مطابق زیادہ تر قیدیوں کا تعلق ملک کے متشدد جرائم پیشہ گروہوں سے ہے جو اکثر جیلوں کے اندر اپنا قانون بناتے ہیں اور پھر اس کے مطابق سزائیں دیتے ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ خواتین مردوں کے ساتھ جیل میں قید ہوتی ہیں اور اکثر زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔

ادارے کے ترجمان اسکوبار گل کا کہنا ہے کہ ہونڈوراس میں جیل خانہ جات کا نظام غیر انسانی ہے جو بدحالی اور بدعنوانی کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ’جرائم پر قابو پانے کے لیے حکومت کو صرف جابرانہ اقدامات پر توجہ مرکوز نہیں کرنا چاہیے بلکہ انھیں جرائم کو عوامل کو ختم کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔‘

اسکوبار گل نے کہا:’ہمیں جیل خانہ جات کو بہتر کرنے کے پروگرام شروع کرنے چاہیے جس میں قیدیوں کو واپس معاشرے میں لانے کے لیے کام سکھانے اور تعلیم دینے کا اہتمام ہو۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں عملہ کم اور غیر منظم ہے اور حکام نے قیدیوں کے اصلاح کرنے کے پروگراموں کو فنڈز فراہم کرنا ترک کر دیے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کے جیل بدحالی اور بدعنوانی کا شکار ہیں اور وہاں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے جیلوں میں 12000 قیدی ہیں جن میں صرف 8000 قیدی رکھنے کی گنجائش تھی۔

انٹر امیریکن کمیشن آف ہیومن رائٹس نے ہونڈوراس کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے بقول ان بڑے مسائل کو حل کریں۔

انسانی حقوق کے ادارے کی طرف سے یہ رپورٹ ہونڈوراس میں فروری 2012 میں آگ لگنے کے بعد جاری کی گئی ہے۔ آگ لگنے کے اس واقعے میں 360 قیدی ہلاک ہوئے تھے۔

تیگوسیگالپا کے شمال میں واقع کومیاگوا جیل میں یہ آگ لگنے کے وقت قیدی اپنے کمروں میں بند تھے۔

انٹر امیریکن کمیشن آف ہیومن رائٹس نے کومیاگوا جیل میں آتش زدگی کے واقعے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حکام پر زور دیا کہ وہ اس واقعے کی مزید تحقیقات کریں۔

حکام نے ابھی تک اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں