بشار الاسد کو اپنی فتح کا یقین

بشار الاسد درایا میں فوجیوں سے مل رہے ہیں
Image caption اطلاعات کے مطابق بشار الاسد نے غیر معمولی طور پر دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں درایا کا دورہ کیا

شام کے صدر بشار الاسد نے فوج کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ باغیوں پر فتح حاصل کر لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم شام میں اس فتح کے بارے میں پُراعتماد نہ ہوتے تو ہم میں گزشتہ دو سال سے جاری جارحیت کا سامنا کرنے کا عزم نہ ہوتا‘۔

دریں اثنا سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حمص میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے۔

ادارے کے مطابق اسلحے کے ایک گودام پر باغیوں کے راکٹ حملے میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ شامی فوج کی جانب سے پیر کو حمص کے ایک اہم ضلع پر کنٹرول کے بعد ہوا ہے۔

شامی فوج نے ایک ماہ قبل حمص سے باغیوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق بشار الاسد نے فوج کے نام یہ پیغام آرمی فاؤنڈیشن ڈے کی اڑسٹھویں سالگرہ کے موقع پر جاری کیا ہے۔

اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے آپ پر یقین ہے اور آپ کی قابلیت پر اعتماد ہے کہ آپ اس قومی مشن کو ضرور پورا کریں گے جو آپ کو سونپا گیا ہے۔‘

’آپ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالیہ تاریخ کی سب سے زیادہ بہیمانہ اور سفاک جنگ میں آپ نے اپنی مزاحمت سے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق بعد میں بشار الاسد نے غیر معمولی طور پر دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں درایا کا دورہ کیا۔ درایا پر پہلے باغیوں کا کنٹرول تھا۔ صدر کے فیس بک صفحہ پر ایک تصویر میں انہیں فوجیوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں تباہ شدہ عمارتیں ہیں۔

بشار الاسد کا پیغام ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب حالیہ ماہ میں شامی افواج نے دارالحکومت دمشق کے قریب اور مرکزی صوبے حمص میں کئی اہم فتوحات حاصل کی ہیں۔

بشار الاسد کی حکومت کے خلاف دو سال سے جاری بغاوت میں حمص بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بدھ کو اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ شام کی حکومت اس کے معائنہ کاروں کو ان مقامات پر جانے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گئی ہے جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں