آسٹریلیا: وزیرِ اعظم نے انتخابات کا اعلان کر دیا

Image caption کیون رڈ کو قدامت پرست حزبِ اختلاف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے

آسٹریلیا کے وزیرِاعظم کیون رڈ نے سات ستمبر کو انتخابات کروانے کی تاریخ دے دی ہے۔ چھ ہفتے قبل انھوں نے لیبر پارٹی کے اندرونی انتخابات میں سابق وزیرِاعظم جولیا گیلارڈ کو شکست دی تھی۔

یہ تاریخ انھوں نے گورنرجنرل سے ملاقات کے بعد دی۔ انتخابات کے اعلان سے قبل یہ رسمی کارروائی ہوتی ہے۔

کیون رڈ سنٹر لیفٹ پارٹی کے سربراہ ہیں اور انھیں قدامت پرست حزبِ اختلاف کے رہنما ٹونی ایبٹ سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹونی ایبٹ کو سبقت حاصل ہے۔

انتخابات کے اہم موضوعات میں معیشت، سیاسی پناہ گزین اور ماحولیاتی تبدیلی شامل ہوں گے۔

کیون رڈ نے لیبر پارٹی میں اپنے حامیوں کو ایک ای میل بھیج میں کہا: ’مقابلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ میں نے چند لمحے قبل گورنر جنرل سے ملاقات کر کے انھیں کہا ہے کہ وہ پارلیمان کو تحلیل کر دیں اور سات ستمبر کو انتخابات کا اعلان کر دیں۔‘

رڈ کو تین سال قبل جولیا گیلارڈ نے پارٹی انتخابات میں شکست دے کر ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

26 جون کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد انھوں نے کئی اہم معاملات پر اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے، اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان کے قدامت پسند حریفوں کی برتری میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

قدامت پرست رہنما ٹونی ایبٹ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر ان کی لبرل پارٹی اقتدار میں آئی تو کان کنی ٹیکس اور کاربن ٹیکس ختم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہو گا۔

یہ دونوں ٹیکس لیبر حکومت نے 2012 میں نافذ کیے تھے۔

ٹونی ایبٹ نے کہا کہ آسٹریلیا میں کاربن ٹیکس کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور اس سے آسٹریلوی صنعت کی بین الاقوامی کمپنیوں سے مسابقت کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں