فوکوشیما ایٹمی پلانٹ میں ہنگامی حالت

Image caption پانی کو روکنے کا حل عارضی تھا: شین جی کینجو

جاپان کے جوہری پروگرام کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کو تابکاری سے پیدا ہونے والے زیرِ زمین پانی کے اخراج سے نئے ہنگامی حالت کا سامنا ہے۔

ملک کے ایٹمی ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ زیرِ زمین پانی کو روکنے کے لیے بنائے گئے بند کو توڑنے میں تین ہفتے لگیں گے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے بحرِاوقیانوس میں زہریلے پانی کا اخراج تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

دو ہزار گیارہ میں زلزلوں اور سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد اس پلانٹ میں پانی کے لیک ہونے اور بجلی کے چلے جانے کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

پلانٹ کو چلانے والی کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کو لیک کے معاملے میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ٹیپکو نےگذشتہ مہینے پہلی دفعہ اس بات کا اعتراف کیا کہ پلانٹ میں تابکاری سے زیرِزمین پیدا ہونے والا پانی، بند خراب ہونے کی وجہ سے سمندر میں لیک ہو رہا ہے لیکن اس نے کہا کہ وہ پانی کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

نیوکلئیر ریگولیٹری اتھارٹی کے ٹاسک فورس کے سربراہ شین جی کینجو نے پیر کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’پانی کو روکنے کا حل عارضی تھا۔‘

انھوں نے کہا ’ٹیپکو کا مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنے کا احساس کمزور ہے۔ اس لیے آپ اسے صرف ٹیپکو کے رحمِ وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے‘ ۔

ان کا کہنا تھا کہ’اب ہمیں ہنگامی حالت کا سامنا ہے۔‘

اسی بارے میں