ایمن الظواہری کی گفتگو سفارت خانوں کی بندش کی وجہ

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے دو اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے پکڑے جانے کی وجہ سے عالمی سطح پر مختلف امریکی سفارت خانوں کو بند کیا گیا تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس گفتگو میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری بھی شامل تھے اور اس میں 11 ستمبر کے حملے کے بعد سب سے بڑے حملے کی بات کی گئی تھی۔

امریکی حکام اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں سفارت خانوں کو ’حفظ ماتقدم کے طور‘ پر بند کیا گیا تھا۔

اتوار کو 20 کے قریب امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے دنیا کے مختلف ممالک میں بند کیے گئے تھے۔

ابوظہبی، عمان، قاہرہ، ریاض، دہران، جدہ، دوحہ، دبئی، کویت، مانامہ، مسقط، صنعا اور طرابلس میں امریکی سفارتی مشنز سنیچر دس اگست تک بند رہیں گے۔

اس کے علاوہ کئی یورپی ممالک نے یمن میں اپنے سفارت خانے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے ایمن الظواہری اور القاعدہ کے یمن میں سربراہ ناصر الوحشی کے درمیان گفتگو ریکارڈ کی جس میں کسی خاص ہدف کی بات تو نہیں کی گئی تھی مگر حملے کا اشارہ واضح تھا۔

ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بتایا کہ یہ گفتگو کئی ہفتے پہلے پکڑی گئی تھی اور اس میں بظاہر یمن کا ذکر تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیمیں اب بھی دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق وہ اس طرح کے حملے اب سے اگست کے آخر تک کر سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب یمن نے ان 25 مشتبہ دہشت گردوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جو حکام کے مطابق دارالحکومت صنعا میں ’بیرونی ممالک کی تنظیموں اور یمنی حکومت کے دفاتر پر حملہ کر سکتی ہیں۔‘

اسی بارے میں