امریکی شہریوں کو یمن سے نکلنے کی ہدایت

ثناء میں امریکی سفارتخانہ
Image caption وزارتِ خارجہ نے ماضی میں امریکی سفارت خانوں پر ہوئے حملوں کا حوالہ بھی دیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے سکیورٹی الرٹ کے سبب اپنے شہریوں اور غیرلازمی سرکاری عملے کو ’فوری طور پر‘ یمن چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ اقدام اتوار کو بیس امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو اچانک بند کرنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

ایمن الظواہری کی گفتگو سفارت خانوں کی بندش کی وجہ

متعدد امریکی سفارت خانے ایک ہفتے تک بند

القاعدہ سے خطرہ، امریکی شہریوں کو سفری وارننگ

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے دو اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے پکڑے جانے کی وجہ سے عالمی سطح پر مختلف امریکی سفارت خانوں کو بند کیا گیا تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس گفتگو میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری بھی شامل تھے اور اس میں 11 ستمبر کے حملے کے بعد سب سے بڑے حملے کی بات کی گئی تھی۔

دریں اثنا برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں اپنے سفارت خانے کے تمام عملے کو واپس بلا لیا ہے اور اپنے شہریوں کو یمن سفر کرنے پر خبردار کیا ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی وزارتِ خارجہ کا امریکی شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ ہائی الرٹ کی وجہ سے یمن سفر کرنے سے گریز کریں اور جو امریکی شہری یمن میں ہیں، وہ وہاں سے فوری طور پر نکل جائیں۔‘

یمن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمن میں خطرہ بہت زیادہ ہے۔

اس سے پہلے ڈرون کے ایک حملے میں القاعدہ کے چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

اس تازہ ترین بیان میں وزارتِ خارجہ نے ماضی میں امریکی سفارت خانوں پر ہوئے حملوں کا حوالہ بھی دیا۔

دوسری جانب یمن میں افسران نے القاعدہ کے 25 مشتبہ افراد کے نام جاری کیے ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ ’یہ لوگ یمن کے دارالحکومت صنعاء اور دوسرے شہروں میں اہم تنصیبات اور غیر ملکی دفاتر پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

اسی بارے میں