’مصر میں مفاہمت کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں‘

Image caption ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مصر کے عبوری صدارتی دفتر کے مطابق ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے حل کے لیے غیر ملکی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔

صدارتی بیان میں کہا گیا ہے ’سفارتی کوششوں کے عمل کا مرحلہ آج اختتام پزیر ہوگیا ہے۔ ان کوششوں سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی امید کی جا رہی تھی‘۔

بیان کے مطابق ’ایوانِ صدر اِن کوششوں کی ناکامی کے لیے اور نتیجتاً اس سے قانون کی خلاف ورزی اور عوام کو لاحق ہونے والے خطرات کے لیے مکمل طور اخوان المسلمین کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے‘۔

مصر کا تنازع: دو امریکی سینیٹر قاہرہ جائیں گے

مصر: مغربی سفارتکاروں کی امن کی کوششیں

قاہرہ: احتجاجی دھرنوں کی ناکہ بندی کا حکم

یورپی یونین کے ترجمان مائیکل مین نے کہا ’ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور مذاکرات میں تمام عناصر کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے‘

انھوں نے کہا ’مصر میں جمہوری عمل کا واپس آنا اہم ہے‘۔

دوسری جانب ہالینڈ کے وزیرِ خارجہ بدھ کو مصر پہنچے ہیں اور انھوں نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی۔

حالیہ دنوں میں امریکہ، یورپی یونین اور چند عرب ممالک کے مندوبین نے مصر میں عبوری حکومت کے اعلیٰ حکام اور اخوان المسلمین کی قیادت سے ملاقاتیں کی تھی۔

اس سے پہلے بین الاقوامی مندوبین نےاس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس تنازع کے حل کی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں اور ایک امریکی سینیٹر نے یہاں تک کہا کہ یہ تنازع ’خون ریزی سے چند ہی دن‘ دور ہے۔

امریکی سینیٹر جان میک کین اور لنڈسی گراہم نے مصر میں فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت سے کہا تھا کہ وہ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیں۔

انھوں نے تین جولائی کو برطرف کیے گئے اخوان المسلمین کے محمد مرسی کے ساتھ مذاکرات کا بھی مشورہ دیا۔

تاہم عبوری صدر عدلی منصور نے مصر کے ’داخلی معاملات میں ناقابلِ قبول مداخلت‘ کے خلاف خبردار کیا۔

ادھر اخوان المسلمین نے بھی امریکی سینیٹروں پر تنقید کی تھی۔

اخوان المسلمین کی کوشش ہے کہ گذشتہ ماہ برطرف کیے جانے والے معزول صدر محمد مرسی کو ان کے عہدے پر بحال کیا جائے۔

خدشہ ہے کہ قاہرہ میں محمد مرسی کی حمایت میں جاری دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے فوج کا استعمال کیا جا سکتا ہے جو کہ مذید تشدد اور خون ریزی کی وجہ بنے گا۔

یاد رہے کہ قاہرہ میں ایک ہیلی کاپٹر نے فضا سے پمفلٹ گرائے ہیں جن میں مظاہرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دھرنا ختم کر دیں۔

رابعہ العدویہ چوک کے آس پاس گرائے گئے ان پمفلٹوں میں مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ اگر انھوں نے احتجاج کے دوران کوئی جرم نہیں کیا تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

اس سے قبل مصر میں ایک عدالت نے اخوان الملسمین کے چند رہنماؤں کے مقدمے کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔

ان رہنماؤں پر اس سال جون میں محمد مرسی کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں کے دوران فساد اکسانے اور آٹھ مظاہرین کی ہلاکت کی جزوی ذمے داری کے الزامات ہیں۔

اس وقت اخوان المسلمین کے مفرور روحانی قائد محمد بعدی اور ان کے دو نائب ساتھیوں خیراط الشاتر اور رشید بےیومی، کے ساتھ ساتھ تین اور رہنماؤں کا مقدمہ 25 اگست کو چلایا جائے گا۔

مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد مرسی کو ایک نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی سے کسی نامعلوم مقام پر ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد یورپی یونین کی نمائندہ نے کہا تھا کہ معزول صدر خیریت سے ہیں لیکن انھیں نہیں معلوم کہ انہیں کہاں رکھاگیا ہے۔

ناکام ریاست کا خدشہ؟

امریکی سینیٹرز نے منگل کو عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البریدی، وزیرِاعظم حاظم ببلاوی اور فوج کے سربراہ جنرل عبد الفتح السیسی نے ملاقاتیں کی تھیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ ’فریڈم اینڈ جسٹس‘ پارٹی کے ارکان سے بھی ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد سینیٹر میک کین نے امریکی چینل سی بی ایس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آئندہ چند روز میں سیاسی حل کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو یہ تنازع ’مکمل خون ریزی‘ میں بدل سکتا ہے۔

Image caption امریکی سینیٹروں نے عبوری حکومت کی دیگر قیادت کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل عبد الفتح السیسی سے بھی ملاقات کی

ان کا کہنا تھا اے میرے خدا! مجھے معلوم نہیں تھا کہ حالات اس قدر برے ہیں۔ یہ لوگ مکمل خون ریزی سے چند ہی روز دور ہیں‘۔

انھوں نے کہا ’ایک پرامن مصر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اہم قوتوں کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت کا عمل‘۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا مصر ایک ناکام ریاست بن سکتا ہے تو انھوں نے کہا ’میرے خیال میں یہ ہو سکتا ہے۔ اگر مجھے اس کا خدشہ نہ ہوتا تو میں یہاں نہیں آتا اور اس بات کا فیصلہ آئندہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا‘۔

سینیٹر لنڈسی گراہم نے کہا ’میں تو کہوں گا کہ اگر اس معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ایسا ہی ہوگا‘۔

اس سے پہلے دونوں سینیٹروں کی جانب سے محمد مرسی کی برطرفی کے لیے ’بغاوت‘ کا لفظ استعمال کرنے پر عبوری حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے دانستہ طور ہر مصر میں ہونے والے واقعات کو بغاوت کہنے سے اجتناب کیا ہے۔

اسی بارے میں