برما میں جمہوری تحریک کی پچیسویں سالگرہ

برما میں 1988 میں شروع ہونے والی جمہوری تحریک کی پچیسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس دن کو رنگون میں عوامی سطح پر کھلے عام منایا جا رہا ہے۔

ہزاروں افراد نے آٹھ اگست 1988 میں شروع ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔

لیکن اس کے چھ ہفتے بعد کم از کم 3000 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں افراد کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور فوج نے مکمل طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

آنگ سان سوچی 1988 میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران ایک رہنما کے طور پر ابھری تھیں۔

توقع ہے کہ آنگ سان سو چی جو اب حزبِ اختلاف کی رہنما ہیں اس موقع پر خطاب بھی کرے گی۔

اس موقع پر تصویروں کی نمائش اور جعلی قید خانوں کے اندر اداکاری کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ 1988 میں ہونے مظاہرے اور اس کے بعد حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کو اجاگر کیا سکے۔

رنگون میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتن ہیڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ اصلاح پسند حکومت نے اس دن کو منانے کی طریقے سے اجازت دی ہے کیونکہ حکومت میں شامل بعض سابقہ فوجی جرنیل تشدد میں ملوث رہے ہیں۔

ایک کمزور سول حکومت نے ملک میں نومبر 2010 میں ہونے والے انتخابات کے بعد اختیارات سنبھالے جس سے عسکری حکومت کا خاتمہ ہوا۔

نئی انتظامیہ نے جس کی سربراہی صدر تھان سین کر رہے ہیں ملک میں مختلف سیاسی اور معاشی اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

ان اصلاحات کے تحت بہت سے سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا اور میڈیا پر پابندیاں کم کر دیں گئیں۔

برما کے صدر تھان سین نے حال ہی میں کہا تھا ملک میں رواں سال کے آخر تک تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

بین الاقوامی برادری نے ان اصلاحات کے جواب میں برما کے خلاف عائد بہت سی بین الاقوامی پابندیاں ختم کی ہیں۔

اسی بارے میں