’مصر میں کشیدگی کے حل میں تعطل کو ختم کریں‘

Image caption محمد مرسی کو ایک نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا گیا ہے

امریکہ اور یورپی یونین نے مصر میں تمام فریقین پر ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے حل میں ’خطرناک تعطل‘ کو ختم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔

ان کا یہ بیان مصر کے عبوری صدارتی دفتر کی طرف سے سیاسی کشیدگی کے حل کے لیے غیر ملکی کوششوں کو ناکام قرار دینے کے بعد آیا ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ مصری حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے کوششیں شروع کریں۔

’مصر میں مفاہمت کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں‘

مصر کا تنازع: دو امریکی سینیٹر قاہرہ جائیں گے

مصر: مغربی سفارتکاروں کی امن کی کوششیں

مصر میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے غیر ملکی کوششوں کے متعلق بدھ کو صدارتی بیان میں کہا گیا تھا کہ ’سفارتی کوششوں کے عمل کا مرحلہ آج اختتام پزیر ہوگیا ہے۔ ان کوششوں سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی امید کی جا رہی تھی‘۔

بیان کے مطابق ’ایوانِ صدر اِن کوششوں کی ناکامی کے لیے اور نتیجتاً اس سے قانون کی خلاف ورزی اور عوام کو لاحق ہونے والے خطرات کے لیے مکمل طور اخوان المسلمین کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے‘۔

صدارتی بیان امریکہ کے ڈپٹی سیکرٹری خارجہ ویلم برنز کا مصر سے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا تھا۔ وہ کئی دن سے وہاں مذاکرات کر رہے تھے اور یورپی یونین کے نمائندے برناردینو لئون ن مذاکرات میں ان کی معاونت کی۔

مصر کے عبوری صدر کے بیان کے تھوڑی ہی دیر بعد امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ’جبکہ مزید پرتشدد محاز آرائی نہیں ہوئی لیکن ہمیں اس بات پر تشویش اور افسوس ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کے رہنما اب تک کشیدگی کے حل میں خطرناک تعطل کو ختم کرنے اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ’ مصری حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے کشیدگی ختم کرنے کا عمل کوششیں شروع کریں۔‘

’یہ ایک نازک صورتِ حال ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مزید خونریزی اور نفاق کا خطرہ ہے بلکہ اس میں مصر کے لیے انتہائی ضروری معاشی بحالی کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ’اب الزامات کے تجزیے کے وقت نہیں ہے بلکہ ایسے اقدامات اٹھانے کا وقت ہے جس سے مذاکرات شروع کرنے حل کی طرف بڑھنے کا عمل کرنے میں مدد مل سکے۔‘

مصری فوج کی طرف سے محمد مرسی کو برطرف کرنے کے بعد امریکہ، یورپی یونین اور چند عرب ممالک کے مندوبین نے مصر میں عبوری حکومت کے اعلیٰ حکام اور اخوان المسلمین کی قیادت سے ملاقاتیں کرکے مذاکرات کا عمل شروع کرنے اور سیاسی کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

Image caption مصری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قائرہ میں سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کی طرف سے جاری دھرنے کو ختم کریں گے

ادھر فوج کی حمایت یافتہ مصری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قائرہ میں سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کی طرف سے جاری دھرنے کو ختم کریں گے۔

اخوان المسلمین کی کوشش ہے کہ تین جولائی کو برطرف کیے جانے والے معزول صدر محمد مرسی کو ان کے عہدے پر بحال کیا جائے۔

خدشہ ہے کہ قاہرہ میں محمد مرسی کی حمایت میں جاری دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے فوج کا استعمال کیا جا سکتا ہے جو کہ مزید تشدد اور خون ریزی کی وجہ بنے گا۔

یاد رہے کہ مصر میں ایک عدالت نے اخوان الملسمین کے چند رہنماؤں کے مقدمے کی تاریخ کا اعلان کر دیا تھا۔

ان رہنماؤں پر اس سال جون میں محمد مرسی کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں کے دوران فساد اکسانے اور آٹھ مظاہرین کی ہلاکت کی جزوی ذمے داری کے الزامات ہیں۔

اس وقت اخوان المسلمین کے مفرور روحانی قائد محمد بعدی اور ان کے دو نائب ساتھیوں خیراط الشاتر اور رشید بے یومی، کے ساتھ ساتھ تین اور رہنماؤں کا مقدمہ 25 اگست کو چلایا جائے گا۔

مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد مرسی کو ایک نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں