نگرانی کے پروگرام میں اصلاحات کی ضرورت:اوباما

Image caption صدر اوباما نے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ ملکر سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور کیا جانے والے پٹراٹک ایکٹ کی سیکشن 215 میں ترمیم کرنے کی کوشش کریں۔

امریکی صدر براک اوباما نے لوگوں کی نگرانی کے پروگرام کی نگرانی کے لیے مناسب اصلاحات کا اعادہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران براک اوباما نے کہا کہ نگرانی کے پروگرام پر لوگوں کے اعتبار قائم کرنے کے لیے خفیہ عدالتوں میں پرائیوٹ وکیل کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا جو حکومت کی طرف سے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی درخواستوں کی مخالفت کرے گا۔

سنوڈن کے ’استعمال‘ کے بعد ای میل سروس بند

جرمنی کا امریکہ سے جاسوسی کا معاہدہ ختم

ایڈورڈ سنوڈن کا پناہ دینے پر روس کا شکریہ

صدر اوباما نے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ ملکر سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور کیا جانے والے پٹراٹک ایکٹ کی سیکشن 215 میں ترمیم کرنے کی کوشش کریں۔ اس سیکشن کے تحت لوگوں کے ٹیلیفون ریکارڈ حاصل کیا جاتا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی میں ایک سول لبرٹیز اور پرائیویسی آفیسر تعینات کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے کہا سی آئی اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کے بارے میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ وہ محب وطن تھا۔

امریکی صدر روسی صدر ولادی میر پوتن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا جب سے پوتن دوبارہ روس کے صدر بنے ہیں امریکہ کے خلاف بیان بازی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

البتہ امریکی صدر نے اگلے برس روس میں ہونے والے ونٹر اولمپکس میں شریک نہ ہونے کی مطالبہ کی حمایت نہیں کی ہے۔

ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لوروف نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو مانتے ہوئے کہا کہ روس اپنے اختلافات پختہ کار لوگوں کی حل کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایڈورڈ سنوڈن امریکہ میں حکومت کی طرف سے لوگوں کی نگرانی کرنے کے خفیہ پروگرام ’پرزم‘ کی تفصیلات سامنے لانے کے الزام میں امریکی حکام کو مطلوب ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں روس میں عارضی سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی جو کہ منظور کر لی گئی ہے۔ اس سے قبل سفری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے سنوڈن لاطینی امریکہ کے ممالک کی طرف سے وہاں پناہ لینے کی پیشکش قبول نہیں کر سکے تھے۔

سنوڈن نے روس میں پناہ لینے کی درخواست حکومت سے قریبی تعلق رکھنے ایک وکیل ایناتولی کچرینا کی مدد سے مکمل کی تھی۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن امریکی حکام کی طرف سے سنوڈن کی حوالگی کی درخواست مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ سنوڈن کو روس میں رکنے کی اجازت کے لیے امریکہ کے نگرانی کے پروگرام کی تفصیلات بتانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

اس سے پہلے یورپی پارلیمنٹ کے سربراہ نے امریکہ کی جانب سے یورپی یونین کے دفاتر کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی خبروں پر ’مکمل وضاحت‘ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک جرمن میگزین نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن ایک ایسی دستاویز منظرِ عام پر لائے ہیں جس سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی حکومت نے یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی۔