صنعا اور لاہور کے علاوہ تمام سفارتخانے کھولنے کا فیصلہ

Image caption لاہور میں امریکی قونصل خانہ وقتی طور پر بند رہے گا

امریکہ نے القاعدہ کے خطرے کے باعث مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بند کیے گئے انیس سفارت خانوں میں سے اٹھارہ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ نے کہا یمن کے دارالحکومت صنعا میں اس کا سفارت خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند رہے گا۔

القاعدہ سے خطرہ، امریکی شہریوں کو سفری وارننگ

21 ملکوں میں امریکہ کے سفارتی مشن بند

متعدد امریکی سفارتخانے چند روز بند رہیں گے

اسی طرح پاکستان کے شہر لاہور میں جمعرات کو بند کیا جانے والا قونصلیٹ بھی وقتی طور پر بند رہے گا۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں اپنے سفارت خانے اور قونصلیٹ گزشتہ ہفتے بند رکھے تھے۔

امریکہ کو خطرہ ہے کہ جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ کا گروپ امریکی مفادات پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکہ نے جمعرات کے روز پاکستان کے شہر لاہور میں اپنے قونصلیٹ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لاہور میں قونصیلٹ کو بند کرنے کا فیصلہ ایک مختلف خطرے کے پیش نظر بند کیا گیا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو امریکہ نے اپنے سفارت خانوں کو بند کرتے وقت کہا تھا کہ القاعدہ اور اس کے حامی نیٹ ورکس کی جانب سے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں واقع اس کے سفارت خانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو پکڑی گئی جس میں ایک سفارت خانے پر حملے کا ذکر تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس گفتگو میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری بھی شامل تھے اور اس میں 11 ستمبر کے حملے کے بعد سب سے بڑے حملے کی بات کی گئی تھی۔

امریکی حکام اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں سفارت خانوں کو ’حفظ ماتقدم کے طور‘ پر بند کیا گیا تھا۔

ویب سائٹ پر لکھا گیا ہے کہ درج ذیل ممالک میں امریکی سفارتی مشن اتوار کو بند رہیں گے: عرب امارات، الجیریا، عمان، اردن، عراق، مصر، سعودی عرب، جبوتی، بنگلہ دیش، قطر، افغانستان، سوڈان، کویت، بحرین، موریطانیہ، یمن اور لیبیا۔

یاد رہے کہ امریکی حکومت نے القاعدہ کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر عالمی سطح پر سفری وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ بیرون ملک سفر کے دوران ہوشیار رہیں۔

دوسری جانب یمن نے ان 25 مشتبہ دہشت گردوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جو حکام کے مطابق دارالحکومت صنعا میں ’بیرونی ممالک کی تنظیموں اور یمنی حکومت کے دفاتر پر حملہ کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں