مصر: شیخ الازہر کی فریقین کو مذاکرت کی دعوت

Image caption حکام کا کہنا ہے اخوان المسلمین کے ارکان اور دوسری اہم اسلامی جماعتوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے

مصر کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ جامعۂ الازہر کے منتظم ِ اعلیٰ شیخ الازہر احمد الطيب نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

جامعۂ الازہر کےمنتظم ِ اعلیٰ قومی مصالحتی اجلاس کی صدارت کے لیے پر امید ہیں۔

جامعۂ الازہر کےحکام نے سنیچر کو بتایا کہ انھوں نے مصر کی سیاسی قوتوں کو قومی مصالحتی اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے جس کی صدارت شیخ احمد ال طیب کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے اخوان المسلمین کے ارکان اور دوسری اہم اسلامی جماعتوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

’مصر میں کشیدگی کے حل میں تعطل کو ختم کریں‘

مصر: مغربی سفارتکاروں کی امن کی کوششیں

مصر کا تنازع: دو امریکی سینیٹر قاہرہ جائیں گے

دھرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: اخوان المسلمین

قاہرہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار یولانڈے نیل کا کہنا ہے کہ جامعۂ الازہر مصر کا انتہائی معتبر ادارہ ہے اور وہ ملک کے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کی برطرفی کے بعد مختلف سیاسی قوتوں کو کسی حد تک اکھٹا رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بار اس ادارے کا کام غیر معمولی مشکل ہے۔

نامہ نگار کے مطابق شیخ احمد الطيب نے مصر کے معزول کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی مداخلت کی کھل کر حمایت کی تھی جس کے بعد ان کے حمایتی ان سے ناراض ہو گئے تھے۔

مصر میں گذشتہ تین دنوں سے محمد مرسی کے حمایتی دو احتجاجی کیمپوں میں جمع ہیں اور وہ ان کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فوج کی حمایت یافتہ مصر کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس ان احتجاجی کیمپوں کو خالی کروائے گی جس سے مذید تشدد اور خون ریزی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مصر میں فوج نے تین جولائی کو محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے حل کے لیے غیر ملکی کوششیں ناکام ہو گئیں اور ان سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی امید کی جا رہی تھی۔

عدلی منصور نے ان کوششوں کی ناکام کا ذمہ دار مکمل طور پر اخوان المسلمین کو ٹھہرایا تھا۔

خیال رہے کہ مصر کے عبوری وزیرِ اعظم نے عید کی چھٹیوں سے قبل کہا تھا کہ رابعہ العداویہ مسجد کے باہر اور قاہرہ یونیورسٹی کے قریب محمد مرسی کے حمایتی کے دھرنوں کو ہٹانے کا فیصلہ حتمی ہے۔

انھوں نے جمرات کو ریاستی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مظاہرین کو دوبارہ مفاہمت کا موقع دینا چاہتی ہے۔

ادھر اخوان المسلمین کے رہنما نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جتنے چاہے افراد کو ہلاک کر دیے، ہم یہاں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس سے پہلے امریکہ اور یورپی یونین نے مصر میں تمام فریقین پر ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے حل میں ’خطرناک تعطل‘ کو ختم کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

امریکہ اور یورپی یونین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ یہ مصری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے کوششیں شروع کرے۔

اسی بارے میں