مالی میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ آج

Image caption صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے 21,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں

افریقی ملک مالی میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں آج ووٹ ڈالے جائیں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ مالی کے سابق وزیرِ اعظم ابراہیم جنھوں نے پہلے مرحلے میں چالیس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے سابق وزیرِ خزانہ صومیلہ کو شکست دے دیں گے۔

خیال رہے کہ مالی میں ایک سال سے زائد جاری سیاسی کشیدگی اور بغاوت کے بعد فرانس کی فوج نے مالی کے شمال سے اسلامی باغیوں کو نکالنے کے لیے فوجی مداخلت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ نے مالی کے صدارتی انتخابات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آئینی حکم بحال کرنے اور مذاکرات شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

مالی میں رواں برس اٹھائیس جولائی کو ہونے والے صدراتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں چھ اعشاریہ آٹھ ملین رجسٹرڈ ووٹروں میں سے انچاس فیصد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔

صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ستائیس امیدواروں میں دوسرے نمبر پر آنے والے صومیلہ نے 19.7 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے تاہم انھوں نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا تاہم مالی کی آئینی عدالت نے ان کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

مالی میں اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے 21,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

ادھر مالی کے سابق وزیرِ اعظم ابراہیم نے ووٹروں سے استدعا کی ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انھیں واضح اکثریت دیں۔

انھوں نے سنیچر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات جیتنے کے بعد ان کی اولین ترجیح ملک میں موافق حالات پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب ابراہیم کے حریف صومیلہ نے انتخاب جیتنے کے بعد ملک میں تعلیم کی حالت میں بہتری ، نوکریوں کی تشکیل اور فوج میں اصلاحات لانے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ مالی میں انتخابات اپریل 2012 میں ہونے تھے لیکن اس سے ایک مہینے پہلے بغاوت کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیل گیا تھا۔

اس کےبعد اسلامی شدت پسندوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبصہ کر کے وہاں سخت گیر شریعت کا نظام نافذ کیا تھا جس کے بعد فرانس نے ملک کی مشرق کی طرف باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

اسی بارے میں