’عوام کی رائے جاننے کے لیے ٹیکسی بہترین طریقہ‘

Image caption زیادہ تر سواریوں کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ اس ٹیکسی ڈرائیور میں کوئی خاص بات ہے

ناروے کے وزیر اعظم ینس سٹولٹنبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک دوپہر کو دارالحکومت اوسلو میں ٹیکسی چلائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ناروے کی عوام جو کہ اصل ووٹرز ہیں سے ان کی رائے معلوم کروں اور ٹیکسی میں زیادہ تر افراد اپنی رائے کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے جون میں عینکیں اور ٹیکسی ڈرائیور کی یونیفارم پہنی اور ٹیکسی چلائی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی شناخت صرف اس وقت ظاہر کی جب ان کو پہچان لیا گیا۔

سواریوں کے ساتھ ان کی بات چیت کو خفیہ طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس ریکارڈنگ کو ومیر اعظم کے فیس بک پیچ پر ڈالا گیا ہے۔ اس ریکارڈنگ میں سے مختصر فلم بنائی جائے گی جس کو ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں مہم کے دوران استعمال کیا جائے گا۔

نواروے کے وزیر اعظم نے میڈیا کو بتایا ’میرے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ اور یہ جاننے کے لیے ٹیکسی سے بہتر کوئی جگہ نہیں تھی۔‘

زیادہ تر سواریوں کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ اس ٹیکسی ڈرائیور میں کوئی خاص بات ہے۔ کئی نے کہا کہ ’تم بالکل وزیر اعظم کی طرح دکھائی دیتے ہو‘۔

ایک خاتون نے کہا کہ خوش قسمتی سے مل گئے ہیں وزیر اعظم کیونکہ میں سوچ رہی تھی کہ آپ کو خط لکھوں‘۔

وزیر سٹولٹنبرگ نے کسی بھی سواری سے کرایہ وصول نہیں کیا۔

وزیر اعظم پر ان کی ڈرائیونگ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ایک موقعے پر زور سے بریک ماری۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آٹومیٹک گاڑی چلا رہے تھے اور وہ بریک کو کلچ سمجھ بیٹھے۔