’میں نے اپنے والد کو قتل کیوں کیا‘؟

سٹیسی لینرٹ

چار جولائی 1990 کو امریکی ریاست مِزوری کے قصبے سینٹ جان میں اٹھارہ سالہ سٹیسی لینرٹ نے اپنے والد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

ایسا کیا ہوا کہ سٹیسی کو ایک انتہائی قدم اٹھانا پڑا؟

سٹیسی کا کہنا ہے کہ ان کے والد دس سال سے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کر رہے تھے۔ سٹیسی کو قتل کا جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سٹیسی کے جیل میں 18 سال گزارنے کے بعد ریاست کے گورنر نے سٹیسی کی سزا کم کر دی اور انہیں فوری طور پر رہا کر دیا گیا۔ سٹیسی نے بی بی سی کے آؤٹ لُک پروگرام میں جنسی زیادی، سزا اور اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں بات کی۔ یہاں پر آپ ان کی کہانی پڑھ سکتے ہیں:

جب میں نو سال کی تھی تب پہلی بار میرے والد نے میرے ساتھ جنسی زیادی کی۔ مجھے لگا کہ یہ بہت غلط ہے، کچھ بہت غلط ہوا ہے لیکن اگلے تین سال تک میں اس بارے میں کسی سے یہ کچھ نہیں کہہ سکی اور جب میں 12 سال کی ہوئی تو اس بارے میں میری آیا کے ذریعے میری ماں کو پتہ چلا لیکن انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

شرابی والد

میرے والد ایک شرابی تھے۔ جب وہ نشے میں نہیں ہوتے تھے تو بہت اچھے اور پیارے آدمی ہوتے تھے، لیکن شراب پینے کے بعد وہ ایسے انسان بن جاتے تھے جن میں بہت زیادہ ڈرتی تھی۔

میں بارہ سال کی تھی جب میرے ماں باپ کی طلاق ہوگئی۔ میری ماں نے دوسری شادی کرلی اور بہت دور چلی گئیں۔ مجھ سے دو سال چھوٹی میری ایک بہن بھی تھی جس کی نگرانی اور تحفظ میری ترجیح تھی۔

جب میں سترہ سال کی ہوئی تو اپنی بہن کو لے کر اپنی ماں کے پاس چلی گئی لیکن میری بہن واپس آگئی اور والد کے ساتھ رہنے لگی۔ وہاں بہت مسائل پیدا ہونے لگے جن کی وجہ سے میرے والد مجھے واپس آکر اس کا خیال رکھنے کو کہا۔

میں اپنے والد کے گھر واپس آگئی اور دو ماہ تک میں یہ سوچ کر سب کچھ برداشت کرتی رہی کہ جیسے ہی میں اٹھارہ سال کی ہو جاؤں گی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس وقت تک میری بہن کے ساتھ کچھ نہیں ہوا تھا اور میں سوچتی تھی کہ میں اس کی حفاظت کر رہی ہوں۔

اپنی اٹھارویں سالگرہ پر میں اپنے والد کے دروازے پر گئی اور ان سے کہا کہ میں اٹھارہ سال کی ہو گئی ہوں اور اب یہ سب بند ہو جانا چاہیے۔ لیکن میرے والد نے وہیں دروازے پر میرا ریپ کیا اور مجھے جانوروں کی طرح پیٹا۔ اس سے پہلے انہوں نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا۔

بس کچھ دن اور۔۔۔

مجھے ریپ کرنے کے بعد انہوں نے میرے اوپر چالیس ڈالر پھینکے اور کہا ’سالگرہ مبارک‘۔ مجھے ایسا لگا کہ میری دنیا برباد ہو گئی ہے۔ بچ نکلنے کی جو امید تھی وہ ختم ہو گئی تھی۔

میں پولیس کے پاس نہیں جا سکتی تھی۔ بیس سال پہلے لوگ خاص طور پر ہمارے جیسے متوسط خاندان میں، جنسی زیادتی کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے تھے۔

پھر میرے والد نے مجھے کہہ دیا تھا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو وہ میرا یقین نہیں کرے گا اور میں نے ان کی بات پر یقین کر لیا۔

یہ تین جولائی کی بات ہے۔ میری بہن دس جولائی کو سولہ سال کی ہو رہی تھی۔

میں نے سوچا کہ میں دس جولائی تک یہ سب برداشت کروں گی اور پھر اپنی بہن کو لے کر یہاں سے چلی جاؤں گی اور قانونی طور پر کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

اپنی سالگرہ پر میں ایک کتے کا بچہ لے آئی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں اب اٹھارہ سال کی ہوگئی ہوں تو اسے پال سکتی ہوں لیکن چار جولائی کی صبح میرے والد نے مجھے کہا کہ کتے کو باہر نکالو۔

میں نے کہا کہ کتے کے ساتھ میں بھی جا رہی ہوں اور میری بہن بھی۔ لیکن انہوں نے بہن کو نہیں لے جانے دیا۔ وہ اسے گھسيٹ كر اپنے کمرے میں لے گئے اور پہلی بار اس جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

غصہ

میں چلاتی رہی، کمرے کا دروازا پیٹتی رہی، باہر جا کر کھڑکی میں سے گھسنے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن سب بیکار۔ اس کے بعد میں اپنی بہن کو لے کر باہر نکل گئی اور سوچا کہ اب ہم یہ سب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

اچانک مجھے خیال آیا کہ میں اپنے چھوٹے سے کتے کو تو گھر پر ہی چھوڑ آئی ہوں۔ میں واپس گھر گئی تو مجھے وہاں رائفل نظر آئی۔

میں چاہتی تھی کہ انہیں ڈرا دوں تاکہ وہ ہمیں تنہا چھوڑ دیں۔ میں انہیں مارنا نہیں چاہتی تھی لیکن میں چاہتی تھی کہ وہ ہمیں جانے دیں۔ وہ نشے میں دھت صوفے پر لیٹے ہوئے تھے۔ مجھے غصہ آیا اور میں نے آنکھ بند کر کے گولی چلا دی۔

وہ گولی ان کے کندھے پر لگی اور انہوں نے کھڑے ہو کر میرا نام پکارا۔ اچانک سے میں حقیقت میں واپس لوٹ آئی اور فون تلاش کرنے لگی۔ لیکن انہوں نے صبح میری بہن کے ساتھ زیادتی کرنے سے پہلے فون چھپا دیا تھا۔

وہ گالیاں دینے لگے اور چلانے لگے کہ دیکھو میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔ میں ڈر گئی، اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی بہن کے لیے۔ میں چاہتی تھی کہ وہ ایک عام زندگی گزارے۔ میں نے پھر آنکھیں بند کرکے گولی چلائی اور اس بار یہ ان کے سر میں لگی۔

سزا

میں نے معاملے کو چھپانے کی ناکام کوشش کی اور آخر کار مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے مجھے عمر قید کی سزا دی۔ شروع میں جیل میں مشکل ہوئی لیکن وہاں بہت سی عورتیں تھیں جو میرے حق میں کھڑی ہوئیں۔

امریکہ میں بہت سی عورتیں جنسی زیادتی کا شکار ہوئی ہیں اور وہ اسے چھپاتی نہیں ہیں اور وہیں سے میرے زخم بھرنے کا آغاز ہوا۔ اس دوران میں اپنے معاملے کو پھر سے اٹھانے کی کوشش بھی کرتی رہی۔ میں نے امید کو کبھی مرنے نہیں دیا۔

سابق گورنر نے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں جن سات افراد کی سزا معاف کی ان میں ایک میں بھی تھی۔ اٹھارہ سال جیل میں گزارنے کے بعد باہر کی دنیا سے تعلق بنانا آسان نہیں تھا۔ میں جب جیل گئی تھی گس وقت موبائل فون نہیں تھے، انٹرنیٹ نہیں تھا۔

میری سزا کے دوران دنیا بہت بدل گئی تھی۔ میں نے جنسی زیادتی کے متاثرین کے لیے ایک ویب سائٹ ’ہیلنگ سسٹرز‘ بھی بنائی۔

بہت سے لوگ جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس غیر منافع بخش ویب سائٹ پر ایسے لوگوں کے لیے مدد موجود ہے۔ میں نے اپنے تجربات پر ایک کتاب’ریڈیمپشن‘ بھی لکھی ہے۔

میرے لیے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کرنا ہی حقیقی آزادی ہے۔ باقی جیل یا اس سے باہر تو صرف جگہ کا فرق ہے۔ میرے لیے آزادی کا مطلب اس بدسلوکی سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے جسے میں نے برداشت کیا۔

اسی بارے میں