برطانیہ : سائیکل سواری کے فروغ کے لیے خطیر رقم

Image caption وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ایک ’سائیکل سواری کا انقلاب‘ چاہتے ہیں

برطانوی حکومت نے سائیکل سواری کے فروغ کے لیے تقریباً دس ارب روپے کی امدادی رقم مختص کی ہے جو مختلف شہروں اور پارکوں میں تقسیم کی جائے گی۔

مانچسٹر، لیڈز، برمنگھم، نیو کاسل، برسٹل، کیمبرج، آکسفورڈ اور ناروچ ستتر ملین پاؤنڈ کی رقم آپس میں استعمال کریں گے جبکہ ملک کے چار نیشنل پارکس کے لیے سترہ ملین کی رقم بھی مہیا کی جائے گی۔

اس رقم سے موجودہ اور نئے سائیکل روٹ بنانے میں مدد ملے گی اور حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی سرخ فیتے کو سائیکل سواری کے فروغ کے معاملے میں کم کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں سڑکیں سائیکل سواری کے لیے غیر محفوظ ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ایک ’سائیکل سواری کا انقلاب‘ چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’اولمپکس، پیرا اولمپکس اور ٹور ڈی فرانس میں برطانوی سائیکل سواروں کی کامیابی کے بعد سے سائیکل سواری میں برطانیہ بہت بہتر جا رہا ہے اور ہم اسے مزید اوپر لے کر جانا چاہتے ہیں۔‘

مانچسٹر شہر کو اس مد میں بیس ملین ملیں گے جس سے شہر میں تیس میل لمبی سائیکل لین بنیں گیں اور شہر میں بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار کے زون بھی بنیں گے۔

نیشنل پارکس جنہیں اس امداد میں سے حصہ ملے گا ان میں نیو فرسٹ، پیک ڈسٹرکٹ، ساؤتھ ڈاؤنز اور ڈارٹمور شامل ہیں۔

حکومت نے لندن سے برمنگھم اور وہاں سے لیڈز اور مانچسٹر تک سائیکل سواری کے لیے خصوصی راستے جو تیز رفتار ایچ ایس ٹو ٹرین لائن کے روٹ پر بنے گا کے لیے فیزیبلٹی جائزے کا بھی اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزراء ملک بھر میں سائیکل سواری کی بڑھتی مقبولیت کو لندن میں دکھانا چاہتے ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق سائیکل سواروں کی تعداد گزشتہ سالوں میں دو گنا ہو چکی ہے۔

شیڈو ٹرانسپورٹ سیکرٹری ماریہ ایگل نے کہا کہ ’ڈیوڈ کیمرون جس طرح چاہیں اس بات کو گھما پھرا کے دکھا لیں حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی سائیکل انگلینڈ اور سائیکنگ کے نمائشی قصبے جیسے پروگرام ختم کر دیے اور اس کے ساتھ ستر لاکھ پاؤنڈ کا بجٹ بھی ختم کر دیا۔‘

اسی بارے میں