اسرائیل نے 26 فلسطینی قیدی رہا کر دیے

Image caption اسرائیل فلسطینیوں کے واپسی کے حق کو رد کرتا ہے

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پانچ برس کے تعطل کے بعد امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اسرائیل نے 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان قیدیوں کو منگل کی شب وسطی اسرائیل کی جیل سے بسوں کے ذریعے غربِ اردن اور غزہ منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کے استقبال کی بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں۔

رہا کیے جانے والے افراد پر اسرائیل میں 1993 سے قبل خطرناک اور مہلک حملے کرنے کا الزام ہے اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے انہیں رات کی تاریکی میں رہا کیا گیا ہے۔

فلسطینی منفی ردعمل ظاہر نہ کریں: جان کیری

اسرائیل کا 26 فلسطینی قیدی رہا کرنے کا اعلان

اسرائیل اور فلسطین مذاکرات کا دوبارہ آغاز

اسرائیل: یہودی بستیوں کے لیے مزید مراعات

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز بدھ سے یروشلم میں ہو رہا ہے اور ان قیدیوں کی رہائی ان مذاکرات کے لیے ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے۔

بدھ کو مذاکرات کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے مقبوضہ علاقے میں مزید مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیلی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ ان بستیوں کو غیر قانونی تصور کرتا ہے لیکن یہ اسرائیل کا یہ اعلان کسی حد تک’متوقع تھا۔‘

جان کیری نے فلسطینی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری پر’منفی ردِعمل ظاہر نہ کریں۔‘

اسرائیل کی طرف سے نئی بستیوں کی تعیر کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان یروشلم میں امن مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سے قبل براہِ راست مذاکرات بھی ان بستیوں کے اعلان کی وجہ سے معطل ہو گئے تھے۔

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ستمبر دو ہزار دس کے بعد سے معطل امن مذاکرات بدھ کو دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری سے جب پیر کو ان کے کمبوڈیا کے دورے کے دوران اسرائیل کی طرف سے نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کے فیصلے کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ اعلان کسی حد تک’متوقع تھا۔‘ لیکن انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بدھ کو شروع ہونے والے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ اس مذاکرات کے سلسلے میں انھوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم اور سینئیر اسرائیلی مذاکرات کار سے بھی بات کی ہے۔

فلسطینی مذاکراتی ٹیم نے اسرائیل پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے جسے اسرائیل نے مسترد کیا ہے۔

فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب اراکات نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ’اگر اسرائیلی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ آبادیاں بنانے کے سلسلے میں حد پار کر سکتی ہے اور وہ اس طرح کے طرزِ عمل کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو وہ مذاکرات کے عدم استحکام کا پرچار کر رہی ہے۔‘

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیو نے اس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ’بستیوں کی تعمیر کسی بھی طرح امن کے منصوبے پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’یروشلم اور دوسرے علاقے جہاں بستیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کسی بھی ممکنہ امن سمجھوتے کے تحت اسرائیل کا حصہ رہیں گے۔‘

یاد رہے کہ فلسطینیوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اسرائیل نے سو سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل کے 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادیوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسی بارے میں