مصر کا مستقبل داؤ پر لگا ہے

Image caption ’اخوان المسلمین کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف کارروائی نے مصر کے بحران کو مزید گہرا اور شدید کر دیا ہے۔‘

مصر کے تنازع میں فریقین کم از کم ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یہ اس میں ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ان کا دعویٰ غلط نہیں۔

دارالحکومت قاہرہ اور مصر کے دیگر شہروں میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ اس کے اثرات اگلی نسل کو بھی منتقل ہوں گے۔

وہ جوش و خروش جو فروری 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے موقع پر قوم میں مجموعی طور پر پایا جاتا تھا اب بہت پرانی داستان لگتا ہے۔

آج کے مصر میں عمومی رویہ یہی ہے کہ ’جو بھی فاتح ہے، سب کچھ اسی کا ہے۔‘

اخوان المسلمین کے صدر محمد مرسی کی معزولی اور انہیں قید کیے جانے سے قبل اپنے دورِ اقتدار میں وہ بھی اپنے وعدے کے برعکس تمام مصریوں کے صدر ثابت نہیں ہوئے۔

اخوان المسلمین نے 1928 سے برسرِاقتدار آنے کی جدوجہد شروع کی تھی اور موقع ملنے پر صدر مرسی اور ان کی جماعت قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی بجائے مصر کی شکل تبدیل کا موقع ہاتھ سے جانے دینے کو تیار نہیں تھی۔

اور اب فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی اور ان کے حامی بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ جمہوری سیاست کو رواج دینا چاہتے ہیں لیکن اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی شدت ہی اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اس سیاسی قوت کو دبانا ہی نہیں بلکہ ختم کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اور پھر ہمیشہ کی طرح تمام عرب دنیا کی نظریں مصر کے ان حالات پر جمی ہوئی ہیں۔

اٹھارہ ماہ قبل عرب ممالک میں انقلابوں کی لہر کے دوران اخوان المسلمین اور دیگر عرب ممالک میں اس کے ہم خیال یا حامی انتخابات میں بھی سب سے آگے نظر آئے تھے۔

لیکن اب اس جیت کا ردعمل سامنے آ رہا ہے جس کا دائرہ مصر سے آگے بھی پھیل سکتا ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قاہرہ میں دھرنا دینے والے اخوان المسلمین کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف کارروائی نے مصر کے بحران کا حل نہیں دیا بلکہ اسے کہیں زیادہ گہرا اور شدید کر دیا ہے۔

اسی بارے میں