لمبے عرصے تک زندہ رہنے کی امید نہیں تھی:کاسترو

Image caption میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میں مزید سات سال زندہ رہونگا: کاسترو

کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو نے کہا ہے کہ انھوں نے دہ ہزار چھ میں شدید بیماری کی وجہ سے اقتدار سے علیحیدگی اختیار کرکے حکومت اپنے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کے حوالے کی۔

فیڈل کاسترو نے اپنی 87ویں سالگرہ کے موقع پر ایک مضمون میں لکھا کہ انھیں معدے کی بیماری سے بچنے اور لمبے عرصے تک زندہ رہنے کی امید نہیں تھی۔

انھوں نے لکھا کہ’ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میں مزید سات سال زندہ رہونگا۔‘

کیوبا میں 1959 میں انقلاب آنے کے بعد سے فیڈل کاسترو اقتدار میں رہے تھے۔

ان کے لمبے مضمون کو صرف سرکاری اخبار گرانما نے ان کے سالگرہ کے ایک دن بعد بدھ کو شائع کیا تھا۔

فیڈل کاسترو نے 2006 میں علاج کی غرض سے اپنا دفتر چھوڑ دیا تھا لیکن انھوں نے کیوبا کے کمانڈر ان چیف اور صدارت کے عہدے سے فروری 2008 میں استعفٰی دیا تھا۔

انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ’جب مجھے اندازہ ہوا کہ میری بیماری حتمی ہوگی تو میں نے صدارت کا عہدہ چھوڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔‘

کاسترو نے اپنے مضمون میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ 1980 کی دہائی میں کیوبا نے شمالی کوریا سے ہتھیار حاصل کیے تھے۔

جب سویت رہنما یوری اندروپوف نے خبردار کیا کہ وہ اب کیوبا کی دفاع کے لیے مزید تیار نہیں تو کیوبا نے شمالی کوریا سے ہتھیار حاصل کیے۔

فیدل کاسترو نے لکھا کہ’انھوں نے ہمیں بتایا کہ اگرہم پر امریکہ نے حملہ کیا تو ہمیں ان کا مقابلہ اکیلے کرنا ہوگا۔‘

تاہم سویت یونین نے کیوبا کو ہتھیار فراہم کرنے کے عہد کی تجدید کی لیکن کیوبا نے ایک ملین کیوبن جنگجؤوں کو مسلح کرنے کے لیے اپنے ’دوسرے دوستوں‘ سے ہتھیار لینے کا فیصلہ کیا۔

کاسترو نے لکھا کہ’کامریڈ کیم سانگ نے جو ایک بڑے اور مثالی فوجی تھے ہمیں ایک لاکھ اے کے بندوقیں بھیجیں اور ہم سے ایک پیسا بھی نہیں لیا۔‘

کیوبا کا مدد کرنے والے شمالی کوریا کے رہنما 1994 میں وفات پا گئے اور ان کے بیٹے نے اقتدار سنبھالا۔

شمالی کوریا کی طرف سے کیوبا کو ہتھیار مہیا کرنے کے بارے میں معلومات اس وقت سامنے آئیں جب اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی ٹیم پاناما کنال میں شمالی کوریا کے جہاز میں کیوبا کی طرف سے اسلحہ لے جانے کی تحقیقات کر رہی تھی۔

گذشتہ ماہ پاناما کے حکام نے ایک جہاز کو اُس وقت روکا جب جہاز کے عملے نے رابطہ کرنے پر جواب نہیں دیا جس پر حکام کو جہاز میں غیر قانونی اشیا کی موجودگی کا شبہ ہوا۔تلاشی کے دوران جہاز سے فرسودہ فوجی سامان برآمد ہوا تھا۔

کیوبا نے جہاز میں دفاعی سازو سامان کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سویت یونین کے دور کے فرسودہ اسلحہ مرمت کے لیے شمالی کوریا بھیجا جا رہا تھا۔

اسی بارے میں