’ایریا 51‘ ایک حقیقت ہے

Image caption ایریا 51 نامی علاقہ نوادا کے صحرا کے دوردراز حصے میں گروم نامی جھیل کے گرد واقع ہے

امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ ’ایریا 51‘ نامی علاقہ وجود رکھتا ہے اور اسے انیس سو پچاس کی دہائی میں امریکی فوج کے خفیہ تجرباتی مقام کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یہ بات یو ٹو جاسوس طیاروں کے پروگرام کی تاریخ کے عام کی جانے والی دستاویز میں کہی گئی ہے۔

ایک امریکی یونیورسٹی کی جانب سے حاصل کی گئی دستاویز کے مطابق 1955 میں ریاست نوادا کے صحرا میں خفیہ جاسوس طیارے کے تجربے کے لیے جگہ حاصل کی گئی۔

دستاویز میں اس جگہ کی اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق سے جڑے ہونے کے خیال کا بھی ذکر ہے۔

ایریا 51 نامی یہ علاقہ صحرا کے دوردراز حصے میں گروم نامی جھیل کے گرد واقع ہے اور اس کے ساتھ جوہری تجربات کرنے کی جگہ ہے۔

دفاعی امور کے صحافی اور مصنف کرس پوکوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یو ٹو یقیناً انتہائی خفیہ پروگرام تھا اور انہیں اس سے متعلق ہر چیز خفیہ رکھنی تھی۔‘

خیال رہے کہ یو ٹو طیارے جو سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے تیار کیے گئے تھے آج بھی امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہیں۔

اڑن طشتریوں کا ذکر

1992 میں تیار کی جانے والی یہ دستاویز دراصل 1998 میں عام کر دی گئی تھی لیکن اس کے بیشتر حصے چھپائے گئے تھے۔

اب یہ خفیہ رکھے جانے والے حصے رواں ماہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی درخواست پر ظاہر کیے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق ایریا 51 کا انتخاب سی آئی اے اور فضائیہ کے عملے کی جانب سے 1955 میں فضائی جائزوں کے بعد کیا گیا اور اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور نے ذاتی طور پر اس کی منظوری دی تھی۔

جولائی 1955 میں یہاں سی آئی اے، فضائیہ اور یو ٹو طیارے بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ کے ماہرین جمع ہونا شروع ہوئے تھے۔

دستاویز میں اس ’ایریا 51‘ کے بارے میں عوامی تخیلات اور اس کے خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں سے جڑے ہونے کا بھی ذکر ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پچاس کی دہائی میں عام طیاروں سے کہیں زیادہ بلندی پر یو ٹو طیاروں کی تجرباتی پروازوں نے اڑن طشتریاں دیکھے جانے کی باتوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا۔

اس نوٹ کے مصنفین کے مطابق ’اس وقت کوئی بھی یقین نہیں کرتا تھا کہ ساٹھ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز ممکن ہے اسی لیے کسی کو آسمان میں اتنی بلندی پر کسی شے کی موجودگی کی توقع نہیں ہوتی تھی۔‘