افغانستان: شدت پسندی کے واقعات میں پندرہ ہلاک

فائل فوٹو،
Image caption حالیہ دنوں افغانستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

افغانستان میں حکام کے مطابق ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ہیرات میں ہلاک ہونے والے نو ٹھیکیدار غیر ملکی امداد سے ایک سڑک تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے مسلح طالبان نے کیمپ پر حملہ کیا۔

صوبے کی پولیس کے ترجمان عبدالرؤف نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے کیمپ پر سنیچر کی صبح اس وقت حملہ کیا جب وہاں لوگ سو رہے تھے۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دریں اثناء صوبہ ہلمند میں سڑک کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے سے عورتوں اور بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس سے پہلے بھی تعمیراتی کمپنیوں کے کیمپوں پر حملے ہو چکے ہیں اور ملک میں تشدد کے واقعات میں ایک ایسے وقت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب غیر ملکی افواج سال دو ہزار چودہ میں انخلاء کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

صوبہ ہلمند میں سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں انخلاء کے منصوبے کے مطابق سال دو ہزار چودہ میں ملک سے تمام غیر ملکی افواج نے نکل جانا ہے اور اس کے بعد سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے پاس ہوں گی۔اگر افغان حکومت منظور کرتی ہے تو سال دو ہزار چودہ کے بعد ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی ایک محدود تعداد تربیت اور تجاویز کے لیے موجود رہے گی۔

اسی بارے میں