مصر: اخوان المسلمین سے منسلک 36 قیدی ہلاک

قیدیوں کی ہلاکت

مصر میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قاہرہ کے ایک مضافاتی علاقے میں منتقلی کے دوران فرار کی کوشش کرنے والے 36 قیدی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان قیدیوں کا تعلق اخوان المسلمین سے بتایا جا رہا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے پہلے کہا تھا کہ وہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں تاہم بعد میں حکام کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں آنسو گیس کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

اس سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے خبردار کیا ہے کہ فوج ملک میں جاری تشدد کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔

جنرل السیسی نے فوج اور پولیس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں سب کے لیے جگہ ہے مگر تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

’ہم ڈرے ہوئے اور تشویش میں ہیں‘

مصر کا مستقبل داؤ پر لگا ہے

جمہوریت یا افراتفری

عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کی جانب سے احتجاج پر کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب اتوار کو اخوان المسلمین اور فوجی بغاوت کے مخالف اتحاد نے قاہرہ کے مختلف علاقوں میں مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا مگر اب کچھ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ریلیاں اور مظاہرے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریلیاں اس لیے منسوخ کی ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ مختلف چھتوں پر نشانہ باز بیٹھے ہوں گے۔

اس سے قبل اتوار کو ہی یورپی یونین نے مصر کو خبردار کیا کہ وہ آئندہ دنوں میں مصر کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے گی۔

ایک بیان میں یورپی یونین نے کہا ہے کہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں خون خرابے سے دبایا جائے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ تشدد اور خون خرابے کی کوئی توجیح نہیں ہے اور نہ ہی اسے معاف کیا جا سکتا ہے۔

یورپی یونین نے مصر کے لیے اس سال اور گزشتہ سال کئی ارب ڈالر کی امداد اور قرضے منظور کیے ہیں۔

دوسری جانب مصر کی کابینہ اتوار کو ایک خصوصی اجلاس میں ملک میں جاری بحران پر غور کر رہی ہے جہاں حالیہ دنوں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مصر کے عبوری وزیراعظم نے معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی جماعت اخوان المسلمین کو قانونی طور پر تحلیل کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

اخوان المسلمین کے اہم رہنما محمد مرسی کے حمایتی ہیں جن کی برطرفی کے خلاف مصر میں مظاہرے جاری ہیں۔

مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے بدھ کو اخوان المسلمین کے احتجاجی دھرنوں پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد سے اخوان المسلمین نے روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حکام کے مطابق جمعہ کو پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 173 ہو گئی ہے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ملک میں جاری مظاہروں میں اخوان المسلمین کے ایک ہزار سے زائد ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مصر کے عبوری وزیر اعظم نے نامہ نگاروں کو بتایا ’ان لوگوں کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں ہوگی جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جنھوں نے ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں۔‘

قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ مصر کے عبوری وزیرِاعظم کی اخوان المسلمین کو تحلیل کرنے کی تجویز سے مصر کو کنٹرول کرنے کی جہدوجہد میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو اس گروپ کے لوگوں کو زیر زمین چلے جانے پر مجبور ہونا پڑے گااور ان کے فنڈنگ کے ذرائع کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

Image caption جمعہ کو پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 173 ہو گئی

معزول صدر مرسی کی حکومت سے بہت ہی قریب ہونے کے باوجود بھی اخوان المسلمین تکنیکی طور پر ایک کالعدم تنظیم رہی ہے۔ اسے سنہ 1954 میں مصر کی فوجی قیادت نے کالعدم قرار دیا تھا لیکن حال میں اس نے خود کو ایک غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹر کرایا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں گرجا گھروں، ہسپتالوں اور دیگر عوامی سہولیات پر حملے کی سخت مذمت کی ہے اور ان کے مطابق یہ حملے قابل قبول نہیں ہیں۔

بان کی مون کا خیال ہے کہ اس خطرناک صورت حال میں مصر کی اولین ترجیحات مذید جانی نقصان کو روکنا چاہیے۔

بان کی مون نے فریقین کو زیادہ سے زیادہ ضبط کے مظاہرے کی بات کہی اور حکام سے ایک ایسے ’قابل عمل منصوبے پر عمل کرنے کے لیے کہا جس سے تشدد پر قابو پایا جاسکے اور سیاسی عمل کو شروع کرنے کی بات کہی جسے تشدد نے یرغمال بنا لیا ہے‘۔

مسجد کو خالی کرا لیا گیا

مصر میں سکیورٹی فورسز کے مطابق انہوں نے مسجد الفتح کے اندر محصور اخوان المسلمین کے حامیوں سے مسجد الفتح کو خالی کرا لیا ہے اور کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

’ہم ڈرے ہوئے اور تشویش میں ہیں‘

تصاویر: اخوان المسلمین کا ’یومِ غضب‘

یومِ غضب پر کب کیا ہوا

دریں اثناء مصر کے عبوری وزیراعظم نے معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی جماعت اخوان المسلمین کو قانونی طور پر تحلیل کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ حکام کے مطابق جمعہ کو پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 173 ہو گئی ہے۔

اخوان المسلمین کے سینکڑوں حامیوں نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسی محاصرے میں گزاری۔

مسجد میں موجود ایک خاتون نے ٹی وی چینل الجزیرہ کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ’یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، وہ مسجد کے اندر فائرنگ کر رہے ہیں‘۔

فائرنگ کے واقعے سے پہلے قاہرہ میں بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے بتایا کہ کچھ مظاہرین مسجد چھوڑ کر گئے ہیں مگر مسجد میں موجود دوسرے افراد فوجیوں پر اعتماد نہیں کرتے اور ان کا مطالبہ ہے کہ فوجی پیچھے چلے جائیں جس کے بعد وہ مسجد سے باہر نکلیں گے۔

اس سے قبل مصر میں سکیورٹی اور وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی اپیل پر جمعے کو منائے جانے والے ’یومِ غضب‘ کے موقع پر سکیورٹی فورسز اور محمد مرسی کے حامیوں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 173 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک ہزار حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سنیچر کو پولیس نے رمسیس سکوائر میں واقع الفتح مسجد کا محاصرہ کرنا شروع کیا جس میں معزول صدر محمد مرسی کے سینکڑوں حامی موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے یہ پیشکش کی تھی کہ خواتین مسجد چھوڑ کر جا سکتی ہیں مگر مردوں کو پوچھ گچھ کے لیے روکا جائے گا مگر مسجد میں موجود افراد نے اس پیشکش کو رد کر دیا۔اندازہ ہے کہ اس مسجد میں ایک ہزار کے قریب افراد محصور ہیں جو گزشتہ روز رامسس سکوائر میں ہونے والے پرتشدد ہنگاموں سے بھاگ کر مسجد میں پناہ لینے آئے تھے۔

مسجد کے اندر سے ایک خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’غنڈوں‘ نے عمارت پر دھاوا بولنے کی کوشش کی مگر مردوں نے دروازوں کو بند کر دیا۔ یہ واضح نہیں کہ ان خاتون کا اشارہ کس جانب تھا۔

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے مینا نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسجد کے اندر سے ’مسلح افراد‘ نے فائرنگ کی۔

اخوان المسلمین نے اعلان کیا ہوا ہے کہ وہ اب روزانہ کی بنیاد پر مظاہروں کا انعقاد کرے گی۔ہلاک شدگان میں سے بیشتر قاہرہ میں رامسس سکوائر اور اس کے قرب و جوار میں اس وقت مارے گئے جب فوج نے مظاہرین پر گولی چلائی۔ ان مظاہرین نے ایک تھانے پر دھاوا بولا تھا جس پر انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کے علاوہ دریائے نیل کے ڈیلٹا کے علاقوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چھ سکندریہ میں مارے گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی بوئن کے مطابق انہوں نے جمعہ کو رمسیس سکوائر کے قریب خود کم از کم بارہ لاشیں دیکھیں۔ ان کے مطابق جمعہ کو ہونے والے مظاہروں نے جلد ہی پرتشدد صورتحال اختیار کر لی اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک پولیس سٹیشن کو نذر آتش کر دیا گیا۔

بوئن کے مطابق انہوں نے آنسو گیس اور گولیوں کی آوازیں سنیں۔ وہ رامسس سکوائر کے قریب ہی ایک مسجد کے پاس کھڑے تھے جب ان کے مطابق وہاں کئی زخمیوں کو امداد کے لیے لایا گیا تھا۔

اس سے قبل بدھ کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے احتجاجی کیمپوں کو ختم کرنے کے لیے کی گئی کارروائی میں کم از کم 638 افراد ہلاک اور ساڑھے تین ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ان مظاہروں میں معزول صدر مرسی کے حامیوں کا نعرہ تھا کہ ’عوام فوجی بغاوت کا خاتمہ چاہتے ہیں‘۔ مظاہروں کے موقع پر دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی سخت رہی اور سڑکوں پر بکتر بند گاڑیاں موجود تھیں۔

سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف چلنے والی تحریک کے مرکز تحریر سکوائر تک جانے والے راستوں کو بھی فوج نے بند کر دیا تھا۔

مصر میں ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ ہے اور دارالحکومت قاہرہ سمیت متعدد شہروں میں سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے۔ مصر کی وزارتِ داخلہ نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد پولیس کو اپنے دفاع اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیےگولی چلانے کی اجازت بھی دی ہوئی ہے۔

مظاہرین نے مسجدِ رابعہ اور نہضہ چوک میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے دھرنا دے رکھا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ معزول صدر مرسی کو بحال کیا جائے جنھیں فوج نے تین جولائی کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

خوش امیدی سے المیے تک

مصر کے عوام فروری 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے پر ملک کے مستقبل کے بارے میں جس خوش امیدی کا شکار تھے وہ اب دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔

اس وقت مصریوں کو لگا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک نیا آغاز ہے اور عام آدمی کی زندگی میں بہتری کی امید پورے ملک میں پائی جا رہی تھی۔

لیکن سیاسی ناکامیوں، اقتصادی بحران اور اربابِ اقتدار کی جانب سے ذاتی مفادات کو بالاتر رکھنے کی وجہ سے امیدوں کا یہ محل زمیں بوس ہوگیا۔

دیگر عرب ممالک کی طرح مصر میں بھی 2011 کا انقلاب عوامی بےچینی اور نئی نسل کے غیض و غضب کا نتیجہ تھا۔

اس خطے میں ساٹھ فیصد آبادی ایسی ہے جس کی عمر تیس برس سے کم ہے اور انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ قدیم حکومتیں ان کے لیے نہیں ہیں اور وہ ان کی موجودگی میں ایک ایسی زندگی حاصل نہیں کر سکتے جہاں وہ خودمختار اور خوش محسوس کر سکیں۔

اس ناامیدی کے ساتھ ساتھ ان افراد کو جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ماضی کے برعکس ان کے حکمرانوں کے لیے ان کی آواز دبانا آسان نہیں تھا۔

اس تیس برس سے کم عمر نسل کو سیٹیلائٹ ٹی وی اور انٹرنیٹ کی مدد سے اس بات کا ادراک ہوا کہ ہر کسی کی زندگی اتنی مشکل نہیں جتنی کہ ان کی بنا دی گئی ہے۔

لیکن 2011 کے ان انقلابیوں کا جوش مصر میں ان اربابِ اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ نے دبا دیا جن میں فوج، سابق اشرافیہ کے بقایا جاتا اور اخوان المسلمین شامل تھے۔

Image caption اختلافات مذاکرات کی میز کی بجائے گلیوں اور بازاروں میں دوبدو لڑائی کے ذریعے طے کیے جا رہے ہیں

گزشتہ برس کے صدارتی انتخاب میں عوام کے پاس چناؤ کے لیے دو ہی شخصیات تھیں۔ ایک تھے اخوان المسلمین کے محمد مرسی تو ان کے مدِمقابل سابق صدر حسنی مبارک کے وزیراعظم اور مصری فضائیہ کے سابق جنرل تھے۔

اقتدار کی یہ دوڑ جیتنا تو کجا اس دوڑ میں اپنا ایک امیدوار لانا بھی تحریر سکوائر کے ان غیرمنظم انقلابیوں کے بس کی بات نہیں تھی۔

اور پھر جب محمد مرسی مصر کے نئے صدر بنے تو انہوں نے تمام مصریوں کا صدر ہونے کا اعلان کیا لیکن وہ اپنے اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔

اخوان المسلمین جس نے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے لیے 80 برس سے زیادہ عرصے تک کوشش کی، وہ اس موقع کو مصر کو اپنے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔

محمد مرسی نے اپنے اقدامات سے یہ تاثر دیا کہ انہیں مصر کو ایک اسلامی ریاست کی شکل دینے کے لیے بھاری عوامی مینڈیٹ حاصل ہے۔ مصر میں اکثر افراد نیک مسلمان ہیں لیکن اس کا خودبخود مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں اخوان المسلمین کے نظریے سے متفق بھی ہیں۔

حالات اس وقت مزید بگڑے جب صدر مرسی کی چنندہ انتظامیہ اپنے عہدوں کی اہل ثابت نہ ہوئی اور ملک کی معیشت کی بحالی کا وعدہ صرف وعدہ ہی رہا۔

اور جون 2013 میں وہ وقت آیا جب ملکی معیشت پر عدم اطمینان اور حکومت کے اسلامی ایجنڈے نے عوام کو پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

Image caption ب لوگ مانتے ہیں کہ مصر کی اگلی نسل کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے

جون کے اختتام تک عوامی جوش اور غصہ اس حد تک پہنچ گیا کہ احتجاجی جلوس میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں شریک ہونے لگے اور یوں فوج کو محمد مرسی کو عہدۂ صدارت سے معزول کرنے کا موقع مل گیا۔

فوج کے اس اقدام کو مصر میں اخوان المسلمین کے سوا ہر حلقے سے پذیرائی ملی۔

امن کے نوبل انعام یافتہ محمد البرادعی بھی اس اقدام کے حامیوں میں شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی فوجی بغاوت نہیں بلکہ عوامی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے اور اس سے مصری عوام کو اپنی جمہوریت کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا۔

لیکن یہ بھی ہو نے سکا اور اب تک جنرل عبدالفتح السیسی کا یہ اقدام اس سکیورٹی سٹیٹ کو بحال کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے جس پر حسنی مبارک 30 برس تک حکمران رہے۔

مصر میں آج ایک مرتبہ پھر ہنگامی حالت نافذ ہے جس کے تحت ریاست کو ’ڈارکونین‘ اختیارات حاصل ہیں۔

محمد البرادعی فوج کی جانب سے قائم جانے والی حکومت کے نائب صدر کی حیثیت سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اخوان المسلمین ہو یا فوج دونوں کے حامیوں کی تعداد کم نہیں اور یہ سب لوگ مانتے ہیں کہ مصر کی اگلی نسل کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور یہ سب ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں لیکن مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات ایک دوسرے سے کہیں الگ ہیں۔

مصر کے لیے بہترین نقشۂ راہ یہی ہے کہ عوام کو معاشرتی سکون پر راضی کیا جائے لیکن اس وقت ایسا ہو نہیں رہا اور اختلافات مذاکرات کی میز کی بجائے گلیوں اور بازاروں میں دوبدو لڑائی کے ذریعے طے کیے جا رہے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے۔

مظاہرین سے عالمی اظہارِ یکجہتی

مصر میں فوج کی جانب سے کارروائی میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جہاں جمعہ کو متعدد مسلم ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں وہیں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے مصر میں فوجی قیادت کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔

سعودی ٹی وی پر اپنے بیان میں انہوں نے عربوں پر زور دیا کہ وہ مصر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیں۔

اس سے قبل حماس کے حامیوں نے نمازِ جمعہ کے بعد مسجدِ اقصیٰ کے قریب مصری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی جبکہ ترکی، انڈونیشیا اور سوڈان میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔

ادھر فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مصر کی صورتحال پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے ہنگامی اجلاس میں مصر میں متحارب فریقین سے کہا تھا کہ وہ ہرممکن حد تک برادشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کی صدر اور اقوامِ متحدہ میں ارجنٹائن کی سفیر ماریا کرسٹینا پرسیول نے صحافیوں کو بتایا کہ کونسل کے ارکان کا موقف یہی ہے کہ مصر میں تشدد ختم ہو اور فریقین آخری حد تک برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

امریکہ نے بھی اس ماہ کے آخر میں مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کر دی ہیں اور امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مصر میں شہریوں کی ہلاکتوں اور حقوق انسانی کے سلب کیے جانے کے دوران ان کے ساتھ فوجی تعاون جاری نہیں رہ سکتا۔

جمعرات کو اپنے بیان میں براک اوباما نے مصر کی عبوری حکومت کے اقدامات کی جانب سے دھرنے پر بیٹھے عوام کو ہٹانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر خطرناک راستے پر ہے اور عبوری حکومت کو تشدد ختم کر کے قومی مفاہمت کے عمل کی جانب بڑھنا چاہیے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کسی جماعت یا سیاسی شخصیت کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔‘

مصر کی عبوری حکومت نے امریکی صدر براک اوباما کے اس حوالے سے بیان پر تنقید کی ہے۔ جمعہ کو علی الصبح صدارتی دفتر سے جاری کیے گئے بیان کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کا بیان ’حقائق پر مبنی نہیں‘ اور اس بیان سے ’مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصر کو ’دہشتگردی کے واقعات‘ کا سامنا ہے۔

ادھر حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی کمشنر نوی پلے نے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’جو افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، چاہے یہ تعداد حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ہی ہو، اشارہ کرتے ہیں کہ مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔‘

ان کے علاوہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے مصر میں ہلاکتوں کو ’قتلِ عام‘ قرار دیا تھا۔ ترکی نے جو کہ ماضی میں معزول مصری صدر محمد مرسی کا بڑا ناقد رہا ہے، مصری فوج کی کارروائی کے بعد مصر سے اپنا سفیر بھی احتجاجاً واپس بلا لیا ہے۔

ویڈیوز

یومِ غضب پر مصر میں جھڑپیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خطے میں اخوان المسلمین کی اہمیت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں