فلپائن: بحری تصادم کے لاپتہ افراد کی تلاش جاری

Image caption حکام کے مطابق کشتی میں 800 سے زیادہ افراد سوار تھے

فلپائن میں حکام کے مطابق ایک مسافر کشتی اور مال بردار جہاز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں درجنوں گم شدہ افراد کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اس تصادم میں کم از کم 31 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایم وی ایکویناس نامی مسافر بردار کشتی مرکزی بندرگاہ سیبو کے ساحل پر مال بردار جہاز سے ٹکرانے کے بعد کو ڈوب گئی تھی۔ حکام کے مطابق کشتی میں 800 سے زیادہ افراد سوار تھے۔

خراب موسم کی وجہ سے غوطہ خوروں کو تباہ شدہ کشتی کے اندر بھیجنے کے عمل میں رکاوٹ آئی ہے۔

بحریہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ابھی بھی موجود ہے کہ کچھ لوگ ایئر پاکٹس میں زندہ بچے ہوں تاہم یہ امید بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے گم شدہ افراد کی نئی فہرست میں 85 افراد کا نام درج کیا ہے۔

اس سے قبل جاری کی جانے والی فہرست میں 170 افراد کے نام شامل تھے جس میں کئی غلطیاں تھیں۔

مسافر کشتی اور مال بردار جہاز کے تصادم کے بعد سے اب تک 600 سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

فلپائن کے ساحلی محافظین اور فوج کی کشتیاں تلاش کے کام میں امداد فراہم کر رہی ہیں لیکن امدادی کام میں سمندری طغیانی حائل رہی ہے۔

بحریہ کے ترجمان لیفٹینٹ گریگوری فیبک نے اے ایف پی کو بتایا کہ خراب موسم نے غوطہ خوروں کو کشتی کی تہوں تک پہنچنے سے باز رکھا۔

حادثے کا شکار ہونے والی مسافر کشتی فلپائن کے دوسرے بڑے شہر سیبو سے بندرگاہ کی طرف آ رہی تھی۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مسافر اس وقت سمندر میں کود پڑے جب جہاز ڈوبنے لگا اور اس فیری کے عملے نے انہیں جان بچانے والے لائف جیکٹ فراہم کرائے۔

حادثے کے وقت بہت سے مسافر نیند میں تھے اور اندھیرے کی وجہ سے لوگوں کو باہر نکلنے میں بھی مشکل ہوئی۔

حادثے میں بچ جانے والے جیرون اگڈوگ نامی شخص نے کہا کہ وہ خود اور کچھ دوسرے افراد اس مال بردار جہاز کے سامنے کود پڑے۔

ڈی زیڈ بی بی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا’ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مجھے بچوں کے مرنے کا افسوس ہے۔ ہم نے اپنے آس پاس لاشیں دیکھیں جبکہ کچھ لوگوں کو بچایا جا رہا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے بچوں کا بہت افسوس ہے۔ ہم نے پانی میں لاشیں تیرتی دیکھیں جبکہ کچھ لوگوں کو بچایا بھی گیا‘۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کشتی پر 58 بچے تھے تاہم یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ ان میں کتنے زندہ بچ گئے ہیں۔

زندہ بچ جانے والے زیادہ تر افراد سمندری پانی اور کشتی سے بہنے والے تیل نکلنے کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔

سنہ 1987 میں فلپائن میں ڈونا پیج نام کی ایک کشتی کے ایک ٹینکر سے ٹکرا جانے کی وجہ سے چار ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جبکہ سنہ 2008 میں ایم وی پرنسس نامی کشتی ایک سمندری طوفان میں غرق ہوئی تھی اور اس حادثے میں 800 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں