ہزاروں شامی مہاجرین کی عراقی کردستان آمد

Image caption سینیچر کو دس ہزار افراد پیشخبر کے مقام سے کردستان میں داخل ہوئے

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں شامی مہاجرین سرحد عبور کر کے عراقی کردستان میں آ رہے ہیں۔

سنیچر کو دس ہزار افراد پیشخبر کے مقام سے کردستان میں داخل ہوئے جبکہ جمعرات کو سات ہزار افراد نے اسی مقام سے سرحد عبور کی۔

اقوامِ متحدہ کے مختلف ادارے کردستان کی مقامی حکومت کے تعاون سے ان مہاجرین سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

شام میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ

شام میں کشیدگی دو دہائیوں کا بدترین بحران ہے: اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس ہجرت کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہیں مگر شامی کردوں اور حکومت مخالف اسلام پسند شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں بہت بڑھ گئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کمشنر کا کہنا ہے کہ یہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک کی مہاجرین کی آمد کی سب سے بڑی لہر ہے۔

لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم موئیر نے بتایا ہے کہ یہ مہاجرین بنیادی طور پر پورے کے پورے خاندان ہیں جو شمالی شام کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔

ان مہاجرین نے دریائے دجلہ کے اوپر بنے نئے پونٹون پل کا فائدہ اٹھایا ہے جس سے ان کی عراقی کردستان میں آمد نسبتاً آسان ہو گئی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ لاکھ مہاجرین کا عراق میں پہلے سے اندارج کیا جا چکا ہے جبکہ بغاوت کے آغاز سے اب تک تیس لاکھ مہاجرین شام سے ہجرت کر چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اہلکاروں نے جمعرات کی شام کو ساڑھے سات سو شامی مہاجرین کے پہلے گروپ کو دیکھا مگر دوپہر کے بعد مزید پانچ سے سات ہزار افراد اور نظر آئے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ مہاجرین حلب، حساکہ، کمشلی اور دوسرے علاقوں سے آئے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ عراقی کردستان کی حکومت کے ساتھ مل کر داراشکرن کے علاقے میں ان مہاجرین کے لیے ایک کیمپ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان ایڈریان ایڈورڈز نے کہا کہ ’یہ کیمپ دو ہفتوں میں کھل جائے گا اور اس سے دباؤ میں کمی واقع ہوگی‘۔

ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ ان نو وارد مہاجرین کی نسلی تقسیم کس نوعیت کی ہے۔

کرد شام کی کُل آبادی کا دس فیصد حصہ ہیں اور زیادہ تر شمال مشرقی شام میں رہتے ہیں۔

Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ مہاجرین حلب، حساکہ، کمشلی اور دوسرے علاقوں سے آئے ہیں

دو ہزار گیارہ میں صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے بعد ان علاقوں میں بھی احتجاج ہوئے اور اب حکومتی افواج کے جانے کے بعد ان علاقوں میں مقامی کرد کونسل اور ملیشیا حکومت کرتے ہیں۔

یہ کرد ملیشیا حالیہ دنوں میں جہادی عناصر اور صدر بشار الاسد کی مخالف النصرہ فرنٹ سے برسرِ پیکار رہے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

عراقی کردستان کے صدر مسعود برزانی نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ وہ شام میں کشیدگی کا شکار کرد آبادی کا دفاع کرنے کے لیے مداخلت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کرد آبادی کو ’ہلاکت یا دہشت گرد کا خطرہ‘ ہوا تو عراقی کردستان ’ان کی مدد کے لیے تیار ہو گا‘۔

عراقی کردستان شمالی عراق کے تین صوبوں پر مشتمل ہے اور اس کی اپنی فوج اور پولیس ہے۔

اسی بارے میں