بدیع کی گرفتاری کی مذمت، مظاہرے جاری رکھنے کی اپیل

Image caption محمد بدیع اخوان المسلمین کے روحانی قائد تصور کیے جاتے ہیں

مصری حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اسلامی جماعت اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ جماعت نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے معزول صدر مرسی کی بحالی کے لیے مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد بدیع کچھ عرصے سے مصر کی عبوری حکومت سے بچنے کے لیے روپوش تھے اور اب ان کی گرفتاری کے بعد اخوان نے محمود عزت کو اپنا عبوری سربراہ مقرر کیا ہے جو خود بھی روپوش ہیں۔

مصر کا مستقبل داؤ پر لگا ہے

مصر میں تشدد کو معاف نہیں کیا جا سکتا: یورپی یونین

امید سے المیے تک

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

مصر میں ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت اور اہم شہروں میں شام سے صبح تک کا کرفیو نافذ ہے اور اسلام پسند مظاہرین کے خلاف کارروائی میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بدھ کے بعد سے اب تک 900 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں ایک سو سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

محمد بدیع کی گرفتاری سے ایک دن پہلے ان کے صاحب زادے عمار بدیع کو قاہرہ کے رمسیس چوک میں مظاہرے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب سابق صدر محمد مرسی کی بحالی کے دھرنا دینے والے مظاہرین کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ مظاہرین کی اکثریت کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔

حکام اور سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ بدیع کو قاہرہ کے شمال مشرق میں واقع علاقے نصر کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ گذشتہ ہفتے اس جگہ سے قریب ہی ایک احتجاجی کیمپ میں ہونے والی جھڑپوں میں بہت خون خرابہ ہوا تھا۔

ان کی گرفتاری کے مناظر مصر میں ٹی وی پر نشر کیے گئے۔ محمد بدیع کی گرفتاری کے بعد حراست میں لیے جانے والے اخوان المسلمین کے سینیئر رہنماؤں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ بدیع کے نائب خیرات الشاطر کو مرسی کی معزولی سے تین روز قبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اخوان المسلمین نے اپنے سربراہ محمد بدایع کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ جماعت کے ایک ترجمان نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ گرفتاری 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف آنے والے انقلاب کے خلاف جاری منصوبے کا حصہ ہے۔

اخوان المسلمین نے اپنے حامیوں سے معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کے لیے مظاہرے جاری رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بدیع کی گرفتار سے پہلے ہی شورش کے شکار ملک میں مزید بے چینی پھیل جائے گی۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق فوج ٹی وی پر محمد بدیع کی گرفتاری کے مناظر نشر کر کے اخوان المسلمین پر اپنی فتح کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔

اس سے پہلے مصر کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ملک میں جاری مظاہروں میں اخوان المسلمین کے ایک ہزار سے زائد ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Image caption اخوان المسلمین نے معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کے لیے مظاہرے جاری رکھنے کی اپیل کی ہے

مصر میں تین جولائی کو محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اخوان المسلمین کے ارکان اور حامیوں نے گرجا گھروں، پولیس سٹیشنز، عیسائیوں کے گھروں اور ان کے کاروباری مراکز پر حملے کیے ہیں۔

یورپی یونین نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ مصر میں تشدد اور خون خرابے کی کوئی توجیح نہیں ہے اور نہ ہی اسے معاف کیا جا سکتا ہے اور یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بدھ کو ہو رہا ہے جس میں مصر کو دی جانے والے اربوں ڈالر امداد میں کٹوتیوں کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔

مصر میں گزشتہ چند روز میں کیا ہوا

چودہ اگست کو حکام کے مطابق قاہرہ میں مرسی کے حامیوں کے احتجاجی ختم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 638 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کے ایک دن بعد پولیس کو اجازت دی گئی کہ وہ سرکاری املاک کی حفاظت کے لیے براہ راست فائرنگ کر سکتے ہیں۔

سولہ اگست: چودہ اگست کی کارروائی کے خلاف ’یوم غضب‘ منایا گیا اور پرتشدد واقعات میں 173 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کے بعد سترہ اگست کو سکیورٹی فورسز نے الفتح مسجد کا محاصرہ کیا اور وہاں موجود مرسی کو حامیوں کو زبردستی باہر نکال دیا۔

اٹھارہ اگست کو اخوان المسلمین سے منسلک 36 قیدی ہلاک ہو گئے اور اسی تاریخ کو صحرائے سینا کے علاقے میں ایک حملے میں 24 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں