چین: سیلاب سے 91 افراد ہلاک، 111 لاپتہ

Image caption چین کے خبر رساں ادارے ژنخوا نے حالیہ سیلاب کو اس دہائی کا بدترین سیلاب قرار دیا ہے

چین کے شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد اکیانوے ہو گئی ہے جبکہ ایک سو گیارہ افراد لاپتہ ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق خیلونگ جیانگ، جی لن، لے یاننگ اور صوبہ گوانگ ڈونگ میں پھنسے سے آٹھ لاکھ چالیس ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد اسی لاکھ کے قریب ہے۔

بیجنگ میں ریکارڈ بارشیں، سینتیس ہلاک

چین کے خبر رساں ادارے ژنخوا نے حالیہ سیلاب کو اس دہائی کا بدترین سیلاب قرار دیا ہے۔ ملک کے جنوبی علاقے ٹائفوں اٹر نامی طوفان کی زد میں ہیں اور وہاں مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ ہفتے صوبہ گوانگ ڈانگ میں دس ہلاکتیں ہوئیں لیکن شدید بارشوں کی وجہ سے خطے میں مزید انتشار کا خطرہ ہے۔ صوبہ لے یاننگ کے کے مختلف اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ افسران کا کہنا ہے کہ اس طوفان نے جمعرات سے ہفتے تک صوبے شمال مشرقی حصے میں تباہی مچائی اور اس سے فشن شہر سے گزرنے والے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔

ژنخوا کا کہنا ہے کہ شہر میں بارشوں سے ریلوے ٹریک، سڑکیں، ٹریفک اور بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا جبکہ تین ہزار فوجی امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سال ایشیا کے کئی ممالک میں سیلاب کی وجہ سے شدید تباہی ہوئی ہے۔

پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 108 افراد ہلاک جبکہ تین لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔

اس کے علاوہ افغانستان میں کابل ضلع میں اسی ماہ کے آغاز میں سیلاب کی وجہ سے گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں