امریکہ کو میرانڈا کی حراست کی خبر تھی

Image caption امریکی صحافی گلین گرین والڈ اپنے ساتھی میرانڈا کو گلے لگا رہے ہیں

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے برطانوی حکام نے اس صحافی کے ساتھی کی حراست کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی جس نے ایڈورڈ سنوڈن سے حاصل کردہ معلومات شائع کی تھیں۔

تاہم اس کا کہنا ہے کہ میرانڈا کو حراست میں لینے کا فیصلہ برطانیہ کا تھا۔

میرانڈا کو اتوار کے روز لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر نو گھنٹے تک زیرِ حراست رکھا گیا تھا۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ میرانڈا کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضوابط کی پیروی کی گئی تھی۔

میرانڈا کو سنہ 2000 کے انسدادِ دہشت گردی قانون کی شق 7 کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اس شق میں پولیس کسی ہوائی اڈے، بندرگاہ یا ریلوے سٹیشن پر کسی کو بھی زیادہ سے زیادہ نو گھنٹے تک ان کے دہشت گردی سے تعلق کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے روک سکتی ہے۔

میرانڈا کا کہنا ہے کہ انھیں ایک کمرے میں بند رکھا گیا اور ان کی ’تمام زندگی‘ کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

برطانیہ کے بعض سینیئر سیاست دانوں اور دہشت گردی کے قانون کے جائزہ کار ڈیوڈ اینڈرسن نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ میرانڈا کو کس لیے روکے رکھا گیا۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے وجہ نہیں بتائی، البتہ پیر کی رات ایک بیان میں کہا کہ ’میرانڈا سے تفتیش‘ تفصیلی سوچ بچار کے بعد کی گئی تھی:

’ہمارے خیال میں اس کیس میں طاقت کا استعمال قانون اور قواعد کی رو سے مناسب تھا۔ بعض رپورٹوں کے برخلاف انھیں قانونی نمائندگی حاصل تھی اور اس دوران ایک وکیل بھی موجود تھا۔‘

برازیل کے وزیرِخارجہ انتونیو پیتریوتا نے برازیل کے شہری میرانڈا کی حراست کو ’ناقابلِ جواز‘ قرار دیا ہے، اور اپنے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ سے جواب طلب کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں نائب ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا: ’یہ فیصلہ برطانوی حکومت نے کیا اور اس میں ہماری ہدایت شامل نہیں تھی۔

’برطانوی حکومت نے ہمیں اطلاع دے دی تھی۔۔۔ لیکن ہم نے اس کی درخواست نہیں کی تھی اور یہ صریحاً برطانوی پولیس کا اپنا فیصلہ تھا۔‘

میرانڈا کو اتوار کو برلن سے ریو ڈی جنیرو جاتے ہوئے لندن میں روک لیا گیا تھا۔ وہ ریو میں اپنے ساتھی صحافی گلین گرین والڈ کے ساتھ رہتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میں ایک کمرے میں بند رہا اور چھ مختلف پولیس والے آتے جاتے رہے اور مجھ سے بات کرتے رہے۔ انھوں نے میری تمام زندگی کے بارے میں سوال کیے۔‘

گرین والڈ نے کہا ہے کہ میرانڈا کو اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ سنوڈن کے امریکی خفیہ ادارے این ایس اے کے بارے میں کیے گئے انکشافات پر لکھتے رہے ہیں۔

سنوڈن اس وقت روس میں ہیں۔ انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی جاسوس ادارہ انٹرنیٹ اور فون کالوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی کرتا ہے۔

گارڈین اخبار کے مطابق انھوں نے ہزاروں فائلیں گرین والڈ کے سپرد کی تھیں، جنھوں نے اس بارے میں کئی مضامین لکھے۔

گرین والڈ کا کہنا ہے کہ ان کے ہم جنس ساتھی کی حراست کا مقصد ’واضح طور پر مجھے اور دوسرے صحافیوں کو ڈرانا ہے جو امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں کے راز افشا کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں