اخوان کی طرف سے بدیع کی گرفتاری کی مذمت

Image caption محمد البرادعی نے نے تین جولائی کومحمد مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے فوج کے سربراہ کے اقدام کی حمایت کی تھی

مصر کی اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین نے اپنے رہنما محمد بدیع کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سابق صدر مرسی کی بحالی تک احتجاجی مظاہرہ جاری رہیں گے۔

ادھر مصر کی حکومت نے فوج کے ہاتھوں اخوان المسلمین کے سینکڑوں حامیوں کی ہلاکت پر مستعفی ہونے والے نائب صدر محمد البرادعی کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

محمد البرادعی نےگزشتہ ہفتے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کم از کم 638 افراد کی ہلاکت کے بعد استعفیٰ دیا تھا اور اب حکام کے مطابق ان پر قومی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اخوان کا مستقبل کیا ہو گا؟

مصر کا مستقبل داؤ پر لگا ہے

امید سے المیے تک

دریں اثنا امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی جس میں مصر کو امداد کے معاملے پر غور کیا گیا۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ امریکی پالیسی میں فی الحال کوئی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔

امریکہ نے پہلے ہی مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بند کر دی ہیں، اور اس پر دباؤ ہے کہ وہ مصری فوج کو دی جانے والی ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد بند کر دے۔

مصر کے پراسکیوٹر جنرل کے مطابق البرادعی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ایک عام شہری کی درخواست پر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے اس اقدام سے یہ تاثر ملا کہ حکومت نے طاقت کا حد سے زیادہ استعمال کیا ہے۔

اگر البرادعی پر یہ الزام ثابت ہوا تو انہیں پندرہ سو ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

محمد البرادعي مصر میں روشن خیال اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ ہیں اور انہوں نے چودہ جولائی کو نائب صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور چودہ اگست کو احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔

انہوں نے تین جولائی کو محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے اقدام کی حمایت کی تھی۔

محمد بدیع کی گرفتاری اور مظاہروں کا اعلان

منگل کو اخوان المسلمین نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ مرسی کی بحالی تک احتجاج جاری رکھیں۔

اخوان کے سیاسی دھڑے حریت و انصاف پارٹی کے ایک رکن خالد حنفی نے کہا کہ تنظیم اپنے رہنما محمد بدیع کی گرفتاری کی وجہ سے اپنے راستے سے نہیں ہٹائی جا سکتی۔

انھوں نے کہا: ’ان کا بڑا مرتبہ ہے اور ہمیں بہت دکھ ہے، لیکن اخوان معاشرے کی تمام سطحوں پر کام کرتی ہے اور اس گرفتاری سے ہماری سرگرمیاں اور پرامن احتجاج کا حق متاثر نہیں ہو گا۔‘

Image caption محمد بدیع اخوان المسلمین کے روحانی قائد تصور کیے جاتے ہیں

جماعت نے محمود عزت کو اپنا عبوری سربراہ بنانے کا اعلان بھی کیا۔ محمود عزت بھی آج کل روپوش ہیں۔

محمد بدیع کچھ عرصے سے مصر کی عبوری حکومت سے بچنے کے لیے روپوش تھے اور انہیں سکیورٹی فورسز نے پیر اور منگل کی درمیانی شب قاہرہ کے شمال مشرق میں واقع علاقے نصر کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا۔

گذشتہ ہفتے اس جگہ سے قریب ہی ایک احتجاجی کیمپ میں ہونے والی جھڑپوں میں بہت خون خرابہ ہوا تھا۔

محمد بدیع کی گرفتاری سے ایک دن پہلے ان کے صاحب زادے عمار بدیع کو قاہرہ کے رمسیس چوک میں مظاہرے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے بعد حراست میں لیے جانے والے اخوان المسلمین کے سینیئر رہنماؤں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ بدیع کے نائب خیرات الشاطر کو مرسی کی معزولی سے تین روز قبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بدیع کی گرفتاری کے مناظر مصر میں ٹی وی پر بھی نشر کیے گئے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بدیع کی گرفتاری سے پہلے ہی شورش کے شکار ملک میں مزید بے چینی پھیل جائے گی۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق فوج ٹی وی پر محمد بدیع کی گرفتاری کے مناظر نشر کر کے اخوان المسلمین پر اپنی فتح کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں عبوری حکومت نے ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کی ہے جس کے بعد اہم شہروں میں شام سے صبح تک کا کرفیو لگایا گیا ہے۔

ملک میں اسلام پسند مظاہرین کے خلاف کارروائی میں گزشتہ بدھ کے بعد سے اب تک 900 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں ایک سو سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مصر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مظاہروں میں شامل اخوان المسلمین کے ایک ہزار سے زائد ارکان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب سابق صدر محمد مرسی کی بحالی کے دھرنا دینے والے مظاہرین کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ مظاہرین کی اکثریت کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔

اسی بارے میں