اخوان المسلمین کا مستقبل کیا ہو گا؟

Image caption اخوان المسلمین کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر اپنی سٹریٹ پاور کا مظاہرہ کیا ہے

ایسا لگتا ہے کہ مصری حکومت یہ بات سمجھ نہیں پا رہی کہ اخوان المسلمین کے ساتھ کیسے نمٹا جائے۔

مرسی کے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد کچھ عرصے تک اس نے اخوان کے ساتھ مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اور یہ بھی سمجھا جا رہا تھا کہ اگر اخوان خون خرابے سے باز رہے تو اسے حکومت سازی میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن مصری میڈیا کے زیرِاثر اس حکمتِ عملی میں تبدیلی آتی گئی۔ اب اگر حکومت کسی قسم کی نرمی دکھاتی ہے تو اسے اخوان کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

اخوان کے رہنما کی گرفتاری کی مذمت

اخوان سے تعلق رکھنے والے 36 قیدی ہلاک

ہلاکتوں میں اضافہ، سرکاری املاک نذرِ آتش

حالیہ دنوں میں حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ اخوان پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پیر کے روز حکام نے کہا کہ اخوان کی سیاسی شاخ حریت و عدل پارٹی کا سیاسی لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ اس قسم کی پابندیوں سے ان مصریوں کی تشفی تو ہو سکتی ہے جو اخوان کو فاشٹ دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی اخوان حسبِ سابق زیرِزمین چلی جائے گی۔

اگر ایسا ہوا تو تو یہ بڑی غلطی ہو گی کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ اخوان کے ساتھ اس صورت میں نمٹنا آسان ہوتا ہے جب وہ سیاسی عمل میں شامل ہو، بجائے اس کے وہ زیرِزمین رہ کر دوسری شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات استوار کر لے۔

فی الحال حکومت اخوان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی ہے۔ اس کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا جا چکا ہے، جس میں اخوان کی اعلیٰ قیادت بھی شامل ہے۔ اس کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں، اور اس سے منسلک میڈیا بند کر دیا گیا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اخوان کی بیخ کنی نہیں کی جا سکتی۔ ماضی میں ایسی بہت سی کوششوں کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔ مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر جنرل اسیسی سے کہیں زیادہ مقبول اور طاقت ور تھے۔ لیکن وہ بھی اخوان کے بین العرب نظریات اور معاشرے کو اسلامی بنیادوں پر سدھارنے پر ایمان کو نہیں مٹانا سکے اور ان کی وفات کے بعد اخوان دوبارہ ابھر کر سامنے آ گئی۔

یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اخوان خود ہی ہاتھ جھاڑ کر پیچھے ہٹ جائے۔ اس کے حامیوں کا محرک مذہب ہے۔ وہ انتقام چاہتے ہیں اور انھیں اس بات کا شدید دکھ ہے کہ ان سے ناانصافی کی گئی ہے۔

فوج کے ہاتھوں اخوان کے حمایت یافتہ صدر محمد مرسی کی معزولی اس ناانصافی کی علامت بن گئی ہے۔ بہت سے لوگ جو بغاوت سے قبل اخوان سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے، وہ بھی اب اپنے مشترکہ دشمن فوج کے خلاف ان کے حامی بن گئے ہیں۔

اگرچہ اخوان کے بطن سے کئی شدت پسند تنظیموں نے جنم لیا ہے، خود اس نے کئی عشرے پہلے تشدد کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ کسی بھی دوسری امن پسند سیاسی جماعت کی طرح کام کرتی رہی ہے اور اس کے رہنما نظم و ضبط کی شہرت رکھتے ہیں۔

لیکن گذشتہ چھ ہفتوں میں مصری میڈیا اور انٹرنیٹ نے اخوان کے حامیوں کی ایسی تصاویر دکھائی ہیں جن میں وہ ہتھیار اٹھائے ہوئے قاہرہ کے وسط اور دوسرے شہروں میں لوگوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اخوان کی حکمتِ عملی میں یہ تبدیلی کیوں آئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جماعت کی قیادت شدت پسندوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے جب کہ دوسرے کہتے ہیں کہ اس کا اپنی جڑوں پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔

Image caption اخوان کے رہنما محمد بدیع کو منگل کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا

اعلیٰ رہنماؤں کی گرفتاری اور موت سے ممکن ہے کہ تنظیم کا شیرازہ بکھر جائے، جس کے بعد قیادت کا شدت پسند کارکنوں پر سے کنٹرول مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔

اگر ایسا ہوا تو اخوان کے بہت سے ارکان اسے چھوڑ کر جہادی تنظیموں کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس سے مصر میں 1971 سے قبل کے زمانے کی دہشت گردی جیسا ماحول لوٹ آئے گا، جب فوجی تنصیبات، سرکاری اداروں اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

ان دنوں مصر میں ہتھیاروں کی فراہمی زیادہ مشکل کام نہیں ہے اور لیبیا اور وادیِ سینا دونوں سے وافر مقدار میں اسلحہ آ سکتا ہے۔

اسی دوران حکومت پورا زور لگا رہی ہے کہ اخوان کو دہشت گرد تنظیم کے روپ میں پیش کیا جائے اور انھوں نے اس سلسلے میں کئی ویڈیو بھی میڈیا کو فراہم کیے ہیں۔

ماضی کی فوجی حکومتوں کی طرح حالیہ حکومت کے کرتا دھرتا بھی اخوان کو اپنے کاموں پر پردہ ڈالنے کے لیے قربانی کا بکرا بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کی جائے تو اس کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ بھی ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں