’میری قبر پہلے ہی تیار کی جاچکی ہے‘

احمد ربانی
Image caption احمد ربانی کو ستمبر دو ہزار دو میں کراچی میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا

گوانتناموبے میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شہری احمد ربانی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ریپریو کو بتائی ہے۔بی بی سی کو ان کی کہانی کی کاپی موصول ہوئی ہے:

احمد ربانی کی کہانی

’ہم فروری سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ہم جس طرح بھی ممکن ہے پرامن طریقے سے مزاحمت کر رہے ہیں لیکن احتجاج کے آغاز سے ہمیں سزائیں دی جا رہی ہیں۔ رمضان کے آغاز پر مختصر ’معافی‘ دی گئی۔ ہمارا لباس (نارنجی رنگ سے بھورے رنگ میں تبدیل کر دیا گیا) اور کچھ بہتر بستر میسر آیا۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ ہمارے لباس کے رنگ کی تبدیلی کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا ہوگا اس بری جگہ کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے۔

’معافی‘ کے باوجود بعض قیدیوں کو چوبیس گھنٹوں کے اندر دوبارہ سزائیں دینا شروع کر دی گئیں۔ میں قسم کھاتا ہوں میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔ ایک افسر نے مجھے بتایا کہ مجھے سزا دی جائے گی تو میں نے دریافت کیا کہ ’مجھے کس بات کے لیے سزا دی جا رہی ہے؟‘ اس نے محض اتنا جواب دیا کہ ’مجھے نہیں معلوم‘۔

یہاں ایک بھائی ہیں جن کا وزن پینسٹھ پاؤنڈ ہوگیا ہے۔ ان کی قد کم از کم ایک سو پچھتر سینٹی میٹر ہے۔ اس قد کے کسی مردہ شخص کا اتنا وزن ہوگا۔ وہ زمین پر کسی مردے کی مانند چلتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس کی واحد درخواست مسترد کر دی کہ اسے انسانوں کی طرح خوراک دی جائے ناکہ غیرانسانی طریقے سے پٹیوں سے باندھ کر۔

ایک اور بھائی نے کئی روز تک پانی نہیں پیا۔ پھر جب وہ نماز ادا کر رہا تھا تو وہ گر گیا۔ ڈاکٹر اور تمام اعلیٰ افسران آئے۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا اور کافی کوششوں کے بعد اس کی جان بچائی گئی۔

یہاں سوال بہت آسان ہے: اگر آپ بھائی کو بھوک ہڑتال کے ذریعے مرنے نہیں دیں گے تو پھر کیوں اسے اس وقت تک چھوڑا جاتا ہے کہ اس کا جسم تباہ ہو جائے اور اس کے بعد اسے زبردستی کھلایا پلایا جاتا ہے تاکہ اسے ایک نیم مردہ بھوت کی صورت زندہ رکھا جائے؟

البتہ میں نے سنا ہے کہ ایسے تیرہ نئے لوگ ہیں جنہیں جلد ٹیوب کی ضرورت پڑے گی۔ ہم اب بھی اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں باوجود اس کے کہ ہمارا ارادہ تبدیل کرنے کے لیے بہت سی پیشکشیں کی گئی ہیں۔ حکومت کے ظلم کے سامنے تمام بھائی صابر اور خاموش ہیں۔

بہت سی بدسلوکیوں کی انتہائی احتیاط سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر حکام مجھے آدھی رات کو تفریح کا موقع دیتے ہیں۔ میں یہ تفریح ایک ماہ تک اکیلا کرتا رہا۔ میں کبھی بھی سورج کی روشنی نہیں دیکھ پاتا ہوں۔یہ کسی زیادہ مناسب وقت پر بھی کی جاسکتی ہے جب روشنی ہو، جب یہ اوقات نماز کے ساتھ متصادم نہ ہو اور یہ کہ ہم سب باجماعت نماز ادا کر سکیں۔

مجھے ستمبر دو ہزار دو میں کراچی میں میرے مکان سے پکڑا گیا کیونکہ میں ماضی میں جن لوگوں کے پاس ملازم تھا حکام کو ان پر شک تھا۔ میں شادی شدہ ہوں اور میرے تین بچے ہیں۔ میری بیٹی اٹھارہ ماہ کی تھی جب مجھے ایک تاریک جیل، زندوں کے قبرستان، لے جایا گیا۔

میں نے سات ماہ تشدد، زنجیروں میں جکڑ ے رکھنا اور کلائیاں باندھ کر اندھیرے میں لٹکائے جانا برداشت کیا۔ اس طرح کی تاریکی میں، تیز موسیقی، شراب اور خون کی بدبو، بھوک، مار پیٹ اور پیاس کے درد میں گھنٹوں گزر جاتے تھے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا، میں انہیں کچھ نہیں بتاسکتا تھا۔ ایک تفتیش کار نے مجھے بتایا کہ میری قبر پہلے ہی تیار کی جاچکی ہے، اور وہ میرے بھائی، اس کی حاملہ بیوی، میری بیوی اور میرے بچوں کو یہاں لاچکے ہیں۔ ہم سب دفنا دیے جائیں گے۔

میں نے ہمیشہ ان سے کہا کہ مجھے امریکی قید خانے منقتل کر دیں جہاں مجھے امریکی انصاف کے وعدے کے پورا ہونے کی امید تھی۔ مجھے امید تھی کہ شاید ہمیں منصفانہ عدالتیں میسر ہوں گی جہاں ہمیں تفتیش کاروں کے خوف کے بغیر بات کرنے کی آزادی ہوگی۔ ہم حقوق انسانی اور امریکی عدالتوں کے انصاف کی باتیں سنا کرتے تھے، لیکن گوانتناموبے میں ہمیں صرف ظلم اور دوغلہ پن ملا۔‘

اسی بارے میں