دمشق:’ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں ہلاک‘

شام
Image caption یوٹیوب پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں اس حملے کا شکار مبینہ زخمی افراد کا ایک عارضی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے

شامی حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ دمشق کے مضافات میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ مہلک کیمیائی ہتھیاروں سے لیس راکٹوں سے دمشق کے مضافاتی علاقے غوتہ پر بدھ کی صبح باغیوں پر حملے کیے گئے۔

کیمیائی ہتھیار: اقوامِ متحدہ کو معائنے کی اجازت

شامی حکومت نے سارین گیس استعمال کی: لوراں فیبیوس

سرکاری خبر رساں ادارے سانا کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی توجہ ہٹانا ہے۔ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

رضاکاروں کے نیٹ ورک نے بھی سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے تاہم ان دعوؤں کی تصدیق آزادانہ طور پر نہیں کی جا سکی۔

ویڈیو فوٹیج میں درجنوں لاشیں دکھائی گئی ہیں جن پر بظاہر زخموں کے نشان نہیں ہیں۔ ان میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر غزوان بویدانی زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی علامات میں سانس گھٹنا، منھ میں پانی آنا اور دھندلی نظر شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے اتنے زیادہ لوگوں کے علاج کی سہولت موجود نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملے اِن علاقوں سے باغی فورسز کو نکال باہر کرنے کی حکومت کی کوششوں کے تحت کیے گئے ہیں۔

یو ٹیوب پر ڈالی گئی ویڈیو میں مختلف کارکن ایک عارضی ہسپتال میں میں لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔

شامی حکومت نے اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اس حملے کی تردید کی ہے۔

اس حملے کا الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے گزشتہ روز اتوار کو پہنچے ہیں۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ معائنہ کار ان حالیہ الزامات کا جائزہ لیں گے یا نہیں۔

یہ معائنہ کار تین جگہوں کا دورہ کریں گے جہاں پر الزامات ہیں کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ ان جگہوں میں سے ایک جگہ شمالی شام کا قصبہ خان الاصل بھی ہے جہاں چھبیس افراد مار میں ہلاک ہوئے تھے۔

شامی حکومت اور باغی دونوں اس تنازعے کے دوران ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، تاہم ابھی تک ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

شام کے بارے عام خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس اب تک بڑی غیر اعلانیہ مقدار میں کیمیائی ہتھیار ہیں جن میں سیرین گیس اور نرو ایجنٹ شامل ہیں۔

اسی بارے میں