مالدیپ: جنسی رشتے پر کوڑوں کی سزا ختم

Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سزا کو ’ظالمانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا ہے

مالدیپ میں شادی سے پہلے جنسی تعلق استوار کرنے پر ایک پندرہ سالہ لڑکی کو سنائی گئی سو کوڑوں کی سزا کو ملک کی ہائی کورٹ نے ختم کر دیا ہے۔

مالدیپ میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنا غیر قانونی عمل ہے۔

مالدیپ کی ہائی کورٹ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ جس لڑکی کے سوتیلے باپ پر اس کے ساتھ ریپ کرنے کا مقدمہ چل رہا ہے، اسے نابالغوں کی عدالت نے شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے کا قصوروار ٹھہرانے میں غلطی کی ہے۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے عدالت کے پہلے فیصلے پر سخت ناراضگي کا اظہار کیا تھا جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے تعریف کی گئی ہے۔

مشرقی ایشیاء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نائب ڈائریکٹر پولی ٹرسکاٹ کا کہنا ہے ’ہمیں اس بات کا اطمینان ہے کہ یہ لڑکی اس الزام کی بنیاد پر سنائي گئی غیر انسانی سزا سے بچ جائیں گی اور امید ہے کہ مقدمہ بھی ختم ہو جائے گا‘۔

ٹرسکاٹ کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی شخص پر شادی کے بغیر سیکس کرنے پر مقدمہ نہیں چلنا چاہیے‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زیریں عدالت کا فیصلہ لڑکی کے اس اقبالیہ بیان کی بنیاد پر کیا گیا جو انہوں نے اس وقت دیا تھا جب وہ ریپ کے سبب ذہنی دباؤ سے گزر رہی تھیں۔

عدالت نے کہا کہ ریپ کے الزام کے بعد ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا۔

فروری میں یہ فیصلہ سنایا گيا تھا کہ جب وہ اٹھارہ برس کی ہو جائیں گی تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں گے اور اس فیصلے کی عالمی سطح پر مزمت کی گئی تھی۔

پولیس کی تفتیش میں یہ معلوم ہوا تھا کہ اس لڑکی نے اپنی مرضی سے ایک مرد کے ساتھ جنسی روابط قائم کر رکھے ہیں۔

ملک کے صدر محمد وحید نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔ ان کے ترجمان مسعود عماد نے خبر رساں ادارے اے پی ایف کو بتایا کہ ’یہ حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ ایسے متاثرین کا تحفظ کرے لیکن ہمیں یہ سب کچھ قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا تھا‘۔

اسی بارے میں