بو ژلائی کا لا پرواہی برتنے کا اعتراف

Image caption امید کے برعکس بوژلائی پرزور انداز میں اپنی مدافعت میں لگے ہوئے ہیں

سابق چینی رہنما بو ژلائی کے مقدمے کی سماعت کے تیسرے دن سنیچر کو انھوں نے خرد برد کے الزامات میں اپنی ’کچھ ذمہ داریوں‘ کا اعتراف کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’میں شرمندہ ہوں، میں زیادہ ہی لاپرواہ رہا، یہ سرکاری فنڈز ہیں‘۔

انھوں نے جنان کی عدالت سے کہا کہ دراصل ان کی بیوی نے یہ پیسے چوری کیے جو سرکاری فنڈ کی رقم تھی لیکن انھوں نے اس کی روک تھام کے لیے زیادہ کوشش نہیں کی۔

اس سے قبل بوژلائی نے اپنے ایک سابق ساتھی کی گواہی کا یہ کہتے ہوئے مذاق اڑایا کہ ان کی گواہی ’غیر منطقی‘ ہے اور ’خود ہی اپنی تردید‘ کرتی ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت کی تفصیلات مشرقی شہر جینان کی عدالت چین کی مائکرو بلاگنگ سائٹ ویئیبو پر مسلسل اپ ڈیٹ کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ بو ژلائی پر رشوت ستانی، بدعنوانی اور اپنے عہدے کے ناجائز استعمال کا الزام ہے تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں نے سرکاری فنڈ میں غبن کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسے ہی ایک گواہ سے بوژلائی کچھ سوالات کرنے والے ہیں جنھوں نے ان پر ڈالیان میں ان کے میئر کے عہدے کے دوران سرکاری فنڈ میں غبن کا الزام لگایا ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ان کے دفاع کرنے والے وکلا انھیں بدعنوانی اور عہدے کے ناجائز استعمال کے مجرم قرار دیئے جانے سے نہیں بچا پائیں گے۔

چین کے سرکاری میڈیا زنہوا نے بتایا کہ سنیچر کو بھی سابق شہری منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر وانگ ژینگانگ نے عدالت کے روبرو گواہی دی۔

Image caption بوژلائی نے اپنی بيوی کی گواہی کو یہ کہتے ہوئے قرار دیا کہ وہ پاگل ہیں

بوژلائی پر ٹینگ ژیاؤلین اور ژو منگ نامی تاجروں سے 21.8 ملین یوان یعنی 56. 3 ملین امریکی ڈالر رشوت لینے کے الزام کے علاوہ سرکاری فنڈ سے 50 لاکھ یوان کے غبن کا بھی الزام ہے۔

سماعت کے دوسرے دن جمعہ کو بوژولائی نے اپنی بیوی گو کیلائی کی گواہی کو مسترد کردیا جس میں ان پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کے شواہد مل رہے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیوی پاگل ہیں۔

گو کیلائی نے اپنی گواہی کے دوران کہا کہ امیر کبیر بزنس مین ژومنگ ہمارے خاندان کے لیے تحفے لایا کرتے تھے تاکہ انہیں ہماری مہربانی حاصل ہو سکے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال گوکیلائی کو بھی برطانوی تاجر نیل ہیوڈ کے قتل کا مجرم قرار دیا گيا تھا۔

بو ژلائی کمیونسٹ پارٹی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ انھیں ایک برطانوی بزنس مین کے قتل کے حوالے سے سامنے آنے والے سکینڈل کے سلسلے میں پارٹی سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

بو ژلائی سکینڈل نے چین کو ہلا کر رکھ دیا تھا کیونکہ اس کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کا معاملہ سامنے آيا تھا۔

اسی بارے میں