جبرالٹر کی سپین کے غوطہ خوروں پر تنقید

Image caption ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے زریعے قانونی چارہ جوئی ایک غیر معمولی اقدام ہو گا

جبرالٹر نے سپین کی پولیس کی طرف سے برطانوی جبرالٹر کے حدود کے ساتھ سمندر میں مصنوعی چٹان کے معائنے کے لیے غوطہ خوروں کو بھیجنے کے اقدام کو شدید نتقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ مصنوعی چٹان سمندر کے اس علاقے میں جس پر برطانیہ اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

جبرالٹر کے گورنر سر انڈرائن جانز نے سپین کی پولیس کے اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جبرالٹر پر برطانوی خودمختاری کی سنجیدہ خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں ٹھیک نہیں تھا جب ماہی گیری کے حقوق کے حوالے سے سرحد پر سختی کی گئی جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاری لگی رہیں۔

سپین کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی چٹان ان کی ماہی گیری کی صنعت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

جبرالٹر کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ’حکومت نے سپین کی پولیس کی طرف سے برطانیہ کے زیرِ کنٹرول جبرالٹر کے پانی میں لیے گئے اقدام کو سنجیدگی سے لیا ہے‘۔

بیان کے مطابق’سرحد کی خلاف ورزی کا یہ عمل کشیدہ حالات کو معمول پر لانے میں مدد نہیں دے گی۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ مہینے جبرالٹر کی حکومت نے کنکریٹ کے بلاکوں کی مدد سے سمندر میں ایک مصنوعی چٹان تیار کیا تھا۔

تصاویر میں سپین کے غوطہ خوروں کو انچی ٹیپ کے ساتھ مصنوعی چٹان کی پیمائش کرتے دکھایا گیا۔

غوطہ خوروں کے پاس سپین کے جنڈے تھے اور انھوں سمندر میں تصاویر بنائی جو ٹوئٹر پر شائع کی گئیں۔

جبرالٹر کی حکومت سمندر میں مصنوعی چٹان بنانے کے حق کی دفاع کرتا ہے اور سپین پر حدود کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا ہے۔

ادھر سپین نے جبرالٹر کے ساحل پر سمندر پر ان کے دعوے کو متنازع قرار دیا ہے اور ان پر سپین کی ماہی گیری کی صنعت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتا ہے۔

یورپین کمیشن سرحد پر کنٹرول کو چیک کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم بھیجے گی۔

اس سے پہلے سپین اور برطانیہ کے درمیان اس وقت تناؤ پیدا ہوا تھا جب سپین کی طرف سرحد پر سختی کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں