کیمیائی ہتھیار: ’3600 کا علاج کیا گیا، 355 ہلاک‘

Image caption ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہ مریض اکیس اگست کو تین ہسپتالوں میں لائے گئے جو دمشق کے انتظامی علاقے میں اس کی مدد سے کام کرتے ہیں۔

عالمی طبی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے تصدیق کی ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں اس کی مدد سے چلنے والے تین ہسپتالوں میں حالیہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متاثر ہونے والے 3600 کے قریب مریضوں کی دیکھ بھال کی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں اس نے ’اعصابی نظام پر زہریلے مادوں کی علامات‘ دیکھی گئیں۔

ان 3600 مریضوں میں سے تنظیم کے مطابق 355 کے قریب کی ہلاکت واقع ہو چکی ہے۔

’اوباما شام پر روس کا ردِعمل دیکھنا چاہتے ہیں‘: سنیے

یو این ٹیم دمشق میں، اوباما کی شام پر مشاورت

مبینہ کیمیائی حملے پر سخت عالمی ردعمل

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما اپنے قومی سلامتی کے مشیروں سے مبینہ کیمیائی حملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما کو تفصیل سے اس واقعے کے بارے میں بتایا گیا ہے تاہم انٹیلیجنس ماہرین تاحال اصل صورت حال کا اندازہ لگانے کے لیے حقائق کے بارے میں معلوم کر رہے ہیں۔ صدر اوباما نے اس معاملے پر برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کمیرون سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہ مریض اکیس اگست کو تین ہسپتالوں میں لائے گئے جو دمشق کے انتظامی علاقے میں اس کی مدد سے کام کرتے ہیں۔

یہ وہی دن ہے جب شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے الزام عائد کیا تھا کہ باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

ایم ایس ایف کے ڈائریکٹر کرسٹوفر سٹوکس نے بی بی سی کو بتایا ’اس قدر زیادہ لوگوں میں بیماریوں کی علامات عندیہ دیتی ہیں کہ ان سب پر کسی ایک ہی چیز کے اثرات پڑے ہیں۔نہ صرف مریض بلکہ جو طبی عملہ اور ڈاکٹر علاج کر رہے تھے اور محفوظ مقامات پر نہیں تھے، وہ بھی متاثر ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ ایک ڈاکٹر کی موت بھی ہوئی ہے‘۔

تنظیم نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کرنے یا اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے سے اجتناب کیا ہے البتہ ادارے کا کہنا ہے کہ مریضوں کے خون اور پیشاب کے نمونے، کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات کا تعین کر سکتے ہیں۔

ایم ایس ایف کے تعلقاتِ عامہ کے ایک افسر ڈاکٹر مائیکل جینسن کا کہنا ہے ’ہم حتمی تصدیق نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ جن ڈاکٹروں نے مریضوں کا علاج کیا ہے انھوں نے بتایا کہ 3500 مریضوں کا معائینہ ہوا جن میں سے 350 سے زائد کی اموات ہوئیں۔

یہ ان حملوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی پہلی تصدیق ہے جن کے بارے میں مغربی حکومتیں شامی حکومت پر جبکہ شامی حکومت باغیوں پر الزام عائد کر رہی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے تخفیف اسلحہ کی سربراہ اینجلا کین دمشق پہنچ گئی ہیں جہاں وہ شامی حکومت پر زور دیں گی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کی جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دیں۔

انجیلا کین کی آمد ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی دمشق کے مضافات میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس مبینہ حملے کی ’بلا تاخیر‘ تحقیقات ہونی چاہئیں اور انہوں نے اسی سلسلے میں انجیلا کین کو دمشق روانہ کیا ہے تاکہ وہ اس حملے کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے معائنے کاروں کو اجازت دلوا سکیں۔

شام کے سرکاری میڈیا نے اس سے قبل الزام عائد کیا تھا کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں کیمیائی ہتھیار ملے ہیں۔

شامی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیوں نے جب جُبر کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

یاد رہے کہ جُبر غوطہ کے ضلعے میں ایک قصبہ ہے جس پر بدھ کو مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل روس نے الزام عائد کیا کہ بدھ کے حملے کے پیچھے باغیوں کا ہاتھ ہے جبکہ دمشق میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کو ’غیر منطقی اور من گھڑت‘ قرار دیا۔

اسی بارے میں