مصر:حسنی مبارک کی عدالت میں پیشی

Image caption حسنی مبارک عدالت میں دفاع کرنے والوں کے لیے بنائے گئے پنجرے میں بیٹھے تھے

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک اتوار کو عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ تین روز قبل انہیں جیل سے رہا کر کے گھر میں نظر بندی کا حکم دیا گیا تھا۔

حسنی مبارک کو2011 میں ملک میں ان کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین کے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں انھیں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔

جمعرات کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں حسنی مبارک کی بریت اور رہائی کے عدالتی احکامات سامنے آنے کے بعد انھیں ان کی رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا تھا۔

مصر:حسنی مبارک کی نظربندی کا حکم

وہ عدالت میں اپنے دو بیٹوں، سابق وزیرِخارجہ اور چھ سکیورٹی سربراہان کے ساتھ ملزمان کے لیے بنائے گئے پنجرے میں بیٹھے تھے۔

اس سے پہلے عدالت نے اخوان المسملین کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت نے اس مقدمے کی مختصر سماعت کی کیونکہ محمد بدیع، خیرات الشطر اور راشد بیائیومی اور 32 دوسرے ملزمان سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اخوان المسلمین کے ان رہنماؤں کی 29 اکتوبر کو مقدمے کی دوبارہ سماعت پر پیشی کی درخواست کی گئی ہے۔

اخوان المسلمین کے رہنماؤں کو تیس جون کو قاہرہ میں ان کےدفتر پر حملے کے دوران مظاہرین کو قتل کرنے پر اکسانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان دنوں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے تھے جو ملک کے منتخب صدر محمد مرسی کی استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ان مظاہروں کے تین دن بعد محمد مرسی کو برطرف کر دیا گیا۔ اب محمد مرسی فوج کی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف حسنی مبارک کے خلاف مظاہروں کے دوران جیل سے فرار ہونے اور فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ مل کر سازش کرنے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

خیال رہے کہ مصر میں رواں ماہ فوج کے ہاتھوں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی معزولی کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے۔

فوج نے اس کریک ڈاؤن کے دوران اخوان المسلمین کے قائد محمد بدیع سمیت سینکڑوں افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

حسنی مبارک کی رہائی کا فیصلہ سامنے آنے پر مبصرین کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی اس بات کی علامت ہو گی کہ فوج اب ان تمام تبدیلیوں کو ختم کر رہی ہے جو دو ہزار گیارہ کی عوامی بغاوت کے بعد سامنے لائی گئی تھیں۔

اسی بارے میں