’امریکی مداخلت سے خطے کو آگ لگ جائے گی‘

Image caption ایم ایس ایف نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کرنے یا اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے سے اجتناب کیا ہے

شام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ملک میں فوجی مداخلت کی صورت میں ’خطے کو آگ‘ لگ جائے گی۔

شام میں وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ شام ابھی بھی ایک مضبوط ملک ہے جس کے خطے میں اتحادی اور دوست موجود ہیں۔

اس سے پہلے شامی حکومت کے ایک اہم اتحادی ایران کے ایک سینیئر جنرل نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے شام میں ’ریڈ لائن‘ عبور کی تو اس کے شدید نتائج ہوں گے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت آئے ہیں جب برطانیہ اور امریکہ نے کہا ہے کہ شام کی جانب سےگزشتہ ہفتے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے ثابت ہونے کی صورت میں شام کو سنگین کارروائی کی دھمکی دی۔

لندن میں ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ سنیچر کو چالیس منٹ تک فون پر بات چیت کی۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے شام کی جانب سے کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق بڑھتے ہوئے شواہد پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے دمشق سے اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کی جگہ کی فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

’اوباما شام پر روس کا ردِعمل دیکھنا چاہتے ہیں‘: سنیے

یو این ٹیم دمشق میں، اوباما کی شام پر مشاورت

شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل

بیان کے مطابق ڈیوڈ کیمرون اور براک اوباما نے اپنے عزم کو دوہرایا ہے کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے ثابت ہونے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے شام کو سنگین جواب دیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ڈیوڈ کیمروں نے کینیڈا کے وزیرِاعظم سٹیفن ہارپر سے بھی اس حوالے سے بات چیت کی۔

بیان کے مطابق کینیڈا کے وزیرِاعظم نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ بین الاقوامی برادری اس حوالے سے فوری اقدام کرے۔

شام میں باغی اور حزبِ مخالف کے کارکن صدر بشار الاسد کی حامی قوتوں پر 21 اگست کو دارالحکومت دمشق کے نزدیک کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں جبکہ سرکاری ٹی وی اس کا الزام باغیوں پر عائد کرتا ہے۔

اس سے پہلے عالمی طبی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے تصدیق کی ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں اس کی مدد سے چلنے والے تین ہسپتالوں میں حالیہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متاثر ہونے والے 3600 کے قریب مریضوں کی دیکھ بھال کی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں اس نے ’اعصابی نظام پر زہریلے مادوں کی علامات‘ دیکھی گئیں۔

ان 3600 مریضوں میں سے تنظیم کے مطابق 355 کے قریب کی ہلاکت واقع ہو چکی ہے۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہ مریض اکیس اگست کو تین ہسپتالوں میں لائے گئے جو دمشق کے انتظامی علاقے میں اس کی مدد سے کام کرتے ہیں۔

ایم ایس ایف کے ڈائریکٹر کرسٹوفر سٹوکس نے بی بی سی کو بتایا ’اس قدر زیادہ لوگوں میں بیماریوں کی علامات عندیہ دیتی ہیں کہ ان سب پر کسی ایک ہی چیز کے اثرات پڑے ہیں۔نہ صرف مریض بلکہ جو طبی عملہ اور ڈاکٹر علاج کر رہے تھے اور محفوظ مقامات پر نہیں تھے، وہ بھی متاثر ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ ایک ڈاکٹر کی موت بھی ہوئی ہے‘۔

تنظیم نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کرنے یا اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے سے اجتناب کیا ہے البتہ ادارے کا کہنا ہے کہ مریضوں کے خون اور پیشاب کے نمونے، کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات کا تعین کر سکتے ہیں۔

ایم ایس ایف کے تعلقاتِ عامہ کے ایک افسر ڈاکٹر مائیکل جینسن کا کہنا ہے ’ہم حتمی تصدیق نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ جن ڈاکٹروں نے مریضوں کا علاج کیا ہے انھوں نے بتایا کہ 3500 مریضوں کا معائینہ ہوا جن میں سے 350 سے زائد کی اموات ہوئیں۔

یہ ان حملوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی پہلی تصدیق ہے جن کے بارے میں مغربی حکومتیں شامی حکومت پر جبکہ شامی حکومت باغیوں پر الزام عائد کر رہی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے تخفیف اسلحہ کی سربراہ اینجلا کین دمشق پہنچ گئی ہیں جہاں وہ شامی حکومت پر زور دیں گی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کی جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دیں۔

Image caption جُبر غوطہ کے ضلعے میں ایک قصبہ ہے جس پر بدھ کو مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا

انجیلا کین کی آمد ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی دمشق کے مضافات میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس مبینہ حملے کی ’بلا تاخیر‘ تحقیقات ہونی چاہئیں اور انہوں نے اسی سلسلے میں انجیلا کین کو دمشق روانہ کیا ہے تاکہ وہ اس حملے کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے معائنے کاروں کو اجازت دلوا سکیں۔

شام کے سرکاری میڈیا نے اس سے قبل الزام عائد کیا تھا کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں کیمیائی ہتھیار ملے ہیں۔

شامی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیوں نے جب جُبر کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

یاد رہے کہ جُبر غوطہ کے ضلعے میں ایک قصبہ ہے جس پر بدھ کو مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل روس نے الزام عائد کیا کہ بدھ کے حملے کے پیچھے باغیوں کا ہاتھ ہے جبکہ دمشق میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کو ’غیر منطقی اور من گھڑت‘ قرار دیا۔

اسی بارے میں