شام: اقوام متحدہ کیمیائی حملے کی تفتیش کرے گا

Image caption شام کے سرکاری میڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں کیمیائی ہتھیار ملے ہیں

شام کی حکومت نے دمشق میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے مقام پر اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو تحقیقات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار پیر سے اپنی تحقیقات شروع کریں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس حملے میں شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ثابت ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

امریکی مداخلت سے خطے کو آگ لگ جائے گی

کیمیائی ہتھیار: ’3600 کا علاج کیا گیا، 355 ہلاک‘

زعتری پناہ گزین کیمپ:خصوصی رپورٹ

شام میں کیمیائی حملے کی تصاویر

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند اور برطانوی وزیر خارجہ ویلم ہیگ نے کھلے عام امریکی موقف کی حمایت کی ہے جبکہ شام کے اتحادی ملک روس نے خبردار کیا ہے کہ مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے نتائج مسلط کرنے سے گریز کیا جائے۔

شام کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کرنے کی اجازت کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں سے بات کرتے کہا ہے کہ شامی حکومتی افواج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شک کی بہت کم گنجائش ہے۔

گزشتہ روز اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کی سربراہ اینگلا کین بھی دمشق پہنچی ہیں جہاں وہ شامی حکومت سے اسی سلسلے میں ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

روس نے شام کی جانب سے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو جائے وقوعہ تک رسائی دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم روسی حکام نے اس تفتیش میں اپنی مرضی کے نتائج اخذ کر کے فوجی مداخلت کا جواز بنانے کے خلاف تنبیہ کی۔

سنیچر کی شام کو امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے متفقہ طور پر شام کی جانب سےگزشتہ ہفتے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے ثابت ہونے کی صورت میں شام کو سنگین کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

لندن میں ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ سنیچر کو چالیس منٹ تک فون پر بات چیت کی۔

Image caption جُبر غوطہ کے ضلعے میں ایک قصبہ ہے جس پر بدھ کو مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے شام کی جانب سے کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق بڑھتے ہوئے شواہد پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع ، چک ہیگل کا کہنا ہےکہ پینٹاگون ہر قسم کے ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔

تاہم شام کے وزیر اطلاعات نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ملک میں فوجی مداخلت کی صورت میں ’خطے کو آگ‘ لگ جائے گی۔

اومران زویبی نے لبنان میں قائم ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے کہا کہ ’شام ابھی بھی ایک مضبوط ملک ہے جس کے خطے میں اتحادی اور دوست موجود ہیں۔‘

اس سے پہلے شامی حکومت کے ایک اہم اتحادی ملک ایران کے ایک سینیئر جنرل نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے شام میں ’ریڈ لائن‘ عبور کی تو اس کے شدید نتائج ہوں گے۔

دوسری جانب ، شام چھوڑنے والے ملک کی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان جہاد مکدیسی نے ملک سے نکلنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں بی بی سی سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ اگر شامی حکومت نے کیمیائی حملہ کیا ہے تو یہ ہرگز ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’اگر اس حکومت نے یہ کام کیا ہے تو یہ خودکشی کے مترادف ہے ۔ اور اگر یہ کارروائی شدت پسندوں کی ہے تو بھی مجرمانہ فعل ہے۔ ہمیں اس پاگل پن کو ختم کرنا ہوگا اور شام کے عوام کو امید دلانا ہوگی کہ ہم بات چیت کے ذریعے بھی کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘

تاہم جہاد مکدیسی نے بین الاقوامی مداخلت کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں تو میزائل مارنے سے محض جھگڑے میں اضافہ ہی ہوگا ۔

شام میں باغی اور حزبِ مخالف کے کارکن صدر بشار الاسد کی حامی قوتوں پر 21 اگست کو دارالحکومت دمشق کے نزدیک کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ سرکاری ٹی وی اس کا الزام باغیوں پر عائد کرتا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں کیمیائی ہتھیار ملے ہیں۔

شامی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیوں نے جب جُبر کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

یاد رہے کہ جُبر غوطہ کے ضلعے میں ایک قصبہ ہے جس پر بدھ کو مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل روس نے الزام عائد کیا کہ بدھ کے حملے کے پیچھے باغیوں کا ہاتھ ہے جبکہ دمشق میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کو ’غیر منطقی اور من گھڑت‘ قرار دیا۔

اس سے پہلے عالمی طبی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے تصدیق کی ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں اس کی مدد سے چلنے والے تین ہسپتالوں میں حالیہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متاثر ہونے والے 3600 کے قریب مریضوں کی دیکھ بھال کی ہے۔

ان 3600 مریضوں میں سے تنظیم کے مطابق 355 کے قریب کی ہلاکت واقع ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں