کیا شام پر حملہ ہوگا؟

ہفتہ آخر کے دوران وائٹ ہاؤس کے لب و لہجے میں تبدیلی آئی ہے اور اب یہ شام کے معاملے پر کافی سخت ہو گیا ہے۔

اسی طرح اب اس میں مزید یقین پایا جاتا ہے کہ گزشتہ ہفتے کیا گیا کیمیائی حملے کے پیچھے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا ہاتھ تھا جس کے نتیجے میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔

ایک بیان میں تجویز دی گئی تھی کہ معائنہ کاروں کو اب اجازت تو دے دی گئی ہے مگر گولہ باری نے پہلے ہی بہت سے ثبوت تباہ کر دیے ہیں۔

بے شک اس کے ساتھ ساتھ معائنہ کاروں پر فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے بھی سخت باتیں کی جائیں گی۔

امریکی صدر براک اوباما کو بہت سارے فوجی کارروائی کے طریقے بتائے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اہم فوجی حلیف ممالک یعنی برطانیہ اور فرانس کے سربراہوں سے بات چیت بھی کی۔

تین امریکی جنگی بحری جہاز پہلے سے ہی خطے میں ہیں جبکہ ایک اور اس جانب روانہ کیا گیا ہے اور کانگریس میں کئی ان جہازوں کو محدود پیمانے پر کروز میزائلوں سے حملے کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

یہ سب ایک ہی جانب اشارہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

عراق کی غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں؟

Image caption کیا امریکہ عراق والی غلطی دہرانے جا رہا ہے؟

برطانوی اخبارات اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ اس ہفتے فضائی حملہ کیا جائے گا۔

یہ سن کر میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک کامیڈی سیریز ’دی ڈے ٹوڈے‘ کو یاد کیے بغیر نہیں رہ پاتا جس میں ایک ٹی وی سٹوڈیو کو ایک ’جنگی ڈیسک‘ میں تبدیل کیا جاتا ہے جس پر سرخ بتیاں اور مشینیں دکھائی دیتی ہیں جو تیزی سے حرکت کرتی ہیں اور روشنیاں کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہیں۔

یہ مزاحیہ ڈرامہ میرے پیشے سے وابستہ بعض افراد کی ذہنیت کی بہت اچھے طریقے سے عکاسی کرتا ہے جو کسی تنازعے یا جنگ کے امکانات پر کچھ زیادہ ہی پرجوش ہو جاتے ہیں۔

میں اب تک صدر اوباما کی جانب سے کارروائی کے بارے میں محتاط اور ہچکچاہٹ پر مبنی رویے کی بات کرتا رہا ہوں مگر اب لگتا ہے کہ ان کے لیے اپنی عزت بچائے بغیر پیچھے ہٹنا ممکن نہیں چہ جائیکہ حالات میں کوئی تبدیلی واقع ہو۔

تاہم ایک بات لمبے عرصے تک مجھے الجھائے ہوئے ہے۔

اگرچہ ایک حکومت کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برملا توہین ہے جس پر عالمی ردِ عمل کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اور لگتا ہے کہ امریکہ کے لیے اپنے ہی عوام کے خلاف ان ہتھیاروں کا استعمال بڑی خوفناک بات ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے بہت زیادہ خوف اس بات کا پایا جاتا ہے کہ کہیں یہ خطرناک ہتھیار ایسے عناصر کے ہاتھوں میں نہ آ جائیں جنہیں مغرب دہشت گرد سمجھتا ہے۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ شام میں برسرِ پیکار ایک حزب اختلاف کے گروہ نے القاعدہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اب یہ حقیقتاً ممکن ہو سکتا ہے۔

مجھلے لگتا ہے کہ امریکہ کی بنیادی دلچسپی ان ہتھیاروں کو محفوظ بنانا اور انہیں استعمال کے قابل نہ چھوڑنا ہے مگر میں نے اس بارے میں بہت کم ہی بحث سنی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی اور روسی سفارت کار آنے والے دنوں میں نیدرلینڈز میں امن مذاکرات کے لیے جمع ہو رہے ہیں مگر امریکی حملے کی صورت میں ان کی کامیابی سے کچھ زیادہ امید نہیں رہے گی مگر دھمکیاں شاید کارگر ہوں۔

اگرچہ صدر اوباما روسی انتباہ کو سنجیدہ نہیں لیں گے مگر ان سب کا بنیادی نکتہ شاید کوئی اثر پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

روس کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ جنگ کے لیے جاتا ہے تو وہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی عراق والی غلطی دہرا رہا ہو گا۔ یہی خطرہ یقیناً صدر اوباما کے ذہن پر بہت زیادہ سوار نظر آتا ہے۔

امریکی فوج نے باقاعدگی سے کہا ہے کہ شام ایک مشکل کارروائی ہو گی کیونکہ یہ لیبیا نہیں ہے اور شام کے پیچیدہ فضائی دفاع کے نظام پر قابو پانے کے لیے بہت محنت چاہیے ہو گی۔

یہ بہت حیران کن ہو گا اگر صدر اوباما زیادہ سے زیادہ عالمی حمایت کی غیر موجودگی میں عملی اقدام کی جانب بڑھتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ذریعے حل کو مزید وقت دیا جائے۔

یہ شاید غلط ہو گا، شاید جلد ہی سرخ بتیاں جلنا شروع ہو جائیں اور جنگی ڈیسک حرکت میں آ جائےگا۔

اس دوران شور و غل بہت ہو گا تاہم ابھی تک شمشیر سونتی نہیں گئی ہے۔

اسی بارے میں