لائیبیریا: داخلہ ٹیسٹ میں فیل طلبا کے لیے امید

Image caption لائیبیریا میں گزشتہ دنوں پچیس ہزار سکول چھوڑنے والے طلبا یونیورسٹیوں کے لیے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہو گئے تھے

افریقہ کے ملک لائبیریا کی سرکاری یونیورسٹی نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اٹھارہ سو سکول چھوڑنے والے طلبا کو داخلہ دے گی جو اس سال کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہو گئے ہیں۔

اس فیصلے کا اعلان لائیبیریا کی صدر ایلن جونسن سرلیف نے کیا۔

صدر ایلن جونسن سرلیف نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سرکاری یونیورسٹی کے ساتھ بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے داخلہ ٹیسٹ میں تمام طلبا کے فیل ہونے کے معاملے کو اٹھایا۔

یاد رہے کہ لائیبیریا میں گزشتہ دنوں پچیس ہزار سکول چھوڑنے والے طلبا یونیورسٹیوں کے لیے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہو گئے تھے۔

یونیورسٹی حکام جنہوں نے یہ داخلہ ٹیسٹ لیا ان کا کہنا ہے کہ ان طلبا کو انگریزی کی بنیادی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ لائیبیریا ایک دہائی قبل ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد کے حالات سے ان دنوں نمٹ رہا ہے جس کے نتیجے میں دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر ایلن جونسن سرلیف کو ملک میں امن کے قیام میں ان کی خدمات کے اعتراف میں 2011 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

انہوں نے بی بی سی کے فوکس آن افریقہ پروگرام کو بتایا کہ ملک کی دو سرکاری یونیورسٹیوں میں سے ایک نے اس سال داخلہ ٹیسٹ کے لیے بہت معیار بہت زیادہ اونچا رکھا تھا جس کے نتیجے میں تمام طلبا فیل ہو گئے۔

صدر سرلیف نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیوں اور کیسے دارالحکومت منروویا میں واقع یہ یونیورسٹی اب ان اٹھارہ سو طلبا کو داخلہ فراہم کرے گی۔

صدر نے بتایا کہ ان کے دور میں سکولوں میں داخلہ لینے والے طلبا کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اب دوسرے مرحلے میں ان کا حدف ہے تعیلم کے معیار کو بہتر بنانا جو کہ بہت مشکل کام ہے‘۔

’آپ کے پاس اس سکولوں کے نظام میں ہزاروں استاد ہیں جن میں سے کئی کی تعلیم صرف ہائی سکول تک کی ہے جسے آپ تین، چار یا پانچ سال میں بدل نہیں سکتے‘۔