کیمیائی ہتھیاروں کے ثبوت کتنے ٹھوس ہیں؟

امریکی کانگریس کے بعض اراکین برطانوی اراکین پارلیمان کی طرح ووٹ دینے کا حق چاہتے ہیں کہ شام کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں۔

ایک نے ٹویٹ کی کہ امریکی صدر کا دفتر صرف کانگریس کو بائی پاس کر کے جنگ کے لیے جا سکتا ہے اگر کوئی قومی ہنگامی صورتحال ہو اور یقیناً ایسا پہلے ہو چکا ہے۔

یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ امریکی صدر اوباما فوجی کارروائی کے لیے اجازت باآسانی حاصل کر لیں گے مگر اس کا یہ یقیناً مطلب ہے کہ میڈیا ہی وہ واحد فورم ہے جہاں امریکی انتظامیہ کے کیس کا امتحان لیا جا سکے گا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیر کو اپنی تقریر میں اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے اسی روز ایک ہی دلیل پیش کی اور ان کا کہنا ہے کہ ’عام فہم‘ دنیا کو بتایا ہے کہ یہ ایک کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ تھا اور یہ صدر بشار الاسد کی جانب سے کیا گیا تھا۔

راکٹوں کی استعداد

جان کیری نے کہا: ’(ہتھیاروں) کا شکار ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں اطلاعات، زخمیوں اور ہلاک شدگان کے بارے میں سامنے آنے والے علامات، شام میں کام کرنے والے امدادی اداروں کا احوال جیسا کہ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ہے اور دی سیرین ہیومن رائٹس کمیشن ہے یہ سب اس بات کی پرزور نشاندہی کرتے ہیں ان مناظر میں جو کچھ ہم پر پہلے ہی آشکار ہوا ہے حقیقی ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔‘

جان کیری نے مزید کہا کہ ’مزید یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ شامی حکومت کے پاس یہ کیمیائی ہتھیار ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ شامی حکومت کے پاس ان راکٹوں کے ساتھ یہ معاملات کرنے کی استعداد ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ شامی حکومت حزبِ اختلاف کو ان علاقوں سے نکالنا چاہتی تھی جہاں یہ حملے ہوئے۔ یہ سب واقعاتی شہادتیں ہیں جو عام فہمی پر دلالت کرتی ہیں‘۔

اس سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شواہد کتنے مضبوط ہیں جن کی بنا پر اس قدر سخت کارروائی کا قدم اٹھایا جائے۔

جان کیری یقیناً صحیح کہ رہے ہیں کہ اکثر لوگ صرف ٹی وی کی تصاویر دیکھ کر انہیں کی طرح سوچیں گے۔

تاہم بعض اس پر ٹھوس شواہد طلب کریں گے خاص طور پر عراق میں جنگ کے معاملے پر پیش کی گئی ناقص انٹیلیجنس کے بعد۔

صدر اوباما نے ایک انٹیلجنس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی منظوری دی ہے جو کہ آنے والے دنوں میں جاری کی جائے گی جس کے بعد اس معاملے پر مزید تجزیہ ہو سکے گا۔

کانگریس اور برطانوی دارلعوام کے اراکین بعض ٹھوس جواب چاہیں گے۔

اور عوام چاہے گی اس معاملے کی چھان بین اعلیٰ درجے پر کی جائے۔

اسی بارے میں