’امریکہ شام پر حملے کے لیے تیار ہے‘

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما کی جانب سے شام پر حملے کے احکامت کی صورت میں امریکی افواج حملے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے کسی بھی حکم پر عمل کرنے کے لیے ہم نے ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔

اس سے قبل شام کے وزیر خارجہ ولید معلم کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ شامی افواج نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب امریکہ کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ’ناقابل تردید‘ شواہد موجود ہیں۔

ولید معلم نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار مبینہ حملوں کے ایک دوسرے مقام پر تحقیقات کے لیے نہیں جا سکے کیوں کہ باغیوں نے انہیں روک دیا ہے۔

شام پر حملہ تباہ کن ہوگا: روس

امریکی مداخلت سے خطے کو آگ لگ جائے گی

کیمیائی ہتھیار: ’3600 کا علاج کیا گیا، 355 ہلاک‘

زعتری پناہ گزین کیمپ: خصوصی رپورٹ

امریکہ اور اس کے حلیف شام میں گذشتہ ہفتے کے کیمیائی حملے کے جواب میں شام پر حملے پر غور کر رہے ہیں۔

ولید معلم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو جواز بنا کر شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنا بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہوگا۔

Image caption ولید معلم کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جو اتنی تباہی پھیلانے والے ہتھیار کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کرے

انہوں نے کہا کہ ’ وہ کہتے ہیں کہ شامی فوج نے یہ حملہ کیا۔ میں (امریکی وزیر خارجہ جان) کیری سے اس بات کی مکمل تردید کرتا ہوں۔‘

’دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جو اتنی تباہی پھیلانے والے ہتھیار کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کرے۔‘

شام کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو مختلف علاقوں تک رسائی اور تحفط فراہم کرنے کے تمام وعدوں کو پورا کر رہے ہیں۔

ادھر روس اور چین نے شام کے خلاف فوجی کارروائی پر تنبیہ کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے اقدام سے خطے پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہوں گے۔

پیر کو امریکہ کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملے کے ’ناقابل تردید‘ شواہد موجود ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان الیکساندر لکاشیوچ نے منگل کے روز کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس بحران پر ’عقل مندی‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’سلامتی کونسل کو نظرانداز کر کے علاقے میں فوجی مداخلت کے لیے مصنوعی بہانے تخلیق کرنے کی کوششوں سے شام میں مسائل پیدا ہوں گے اور مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دوسرے ممالک پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔‘

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے پر کہا گیا ہے کہ مغربی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچنے میں جلد بازی سے کام لے رہی ہیں کہ شام نے کیمایائی ہتھیاروں کا استمعال کیا ہے جبکہ ابھی اقوام متحدہ کی ٹیم نے اپنی تحقیقات مکمل نہیں کی ہیں۔

پیر کو معائنہ کاروں کی ٹیم متاثرہ علاقے کی جانب جاتے ہوئے فائرنگ کے زد میں آ گئی تھی۔

دوسری طرف امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک سخت بیان میں شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تردید‘ استعمال کی مذمت کی ہے۔ جان کیری نے دمشق کے مضافات میں ان حالیہ حملوں کو’اخلاقی بد تہذیبی‘ قرار دیا۔

جان کیری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو کچھ ہم نے شام میں گزشتہ ہفتے دیکھا ہے اس سے دنیا کے ضمیر کو ضرور جاگنا چاہیے۔‘

شامی حکومت اور حزبِ مخالف دونوں ایک دوسرے پر اس کیمیائی حملے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں