حملے کی صورت میں شام کیا کرے گا؟

Image caption شام کے خلاف جس طرح کے ہتھیار استعمال ہونے کے امکانات ہیں ان میں میزائل جنگی جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔

اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہا ہے تو ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے جواب میں شام کے پاس کیا راستہ ہے۔

جس طرح کے حملے کی بات کی جا رہی ہے اس سے خود کو بچانے کے لیے شام کی حکومت کیا کر سکتی ہے اور جوابی کارروائی کے لیے کس طرح کے اقدامات کا امکان ہے۔

ایسے اشارے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور غالباً فرانس کی جانب سے جس طرح کا کارروائی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل جنگی جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔

اس کارروائی میں فکسڈ ونگ طیارے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا ہے تو ان کے ذریعے شام کی فضائی حدود کے باہر سے یہ حملے کیے جا سکتے ہیں جس کا مقابلہ شام کے دفاعی نظام کے لیے مشکل ہوگا۔

شام کا فضائی دفاعی نظام بہترین ہوا کرتا تھا۔ تاہم یہ پرانے روسی ہتھیاروں پر مشتمل ہے جن میں حال ہی میں کچھ نئے ہتھیار بھی شامل کیے گیے ہیں جن میں چین کا سپلائی کیا گیا ریڈار سسٹم بھی ہے۔

تاہم مغربی ممالک کی جدید فضائیہ ان ہتھیاروں سے اچھی طرح واقف ہے جو شام کے پاس ہیں۔

ابھی شام کے ایس 300 سسٹم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جو شام نے ماسکو سے منگوائے تھے۔ یہ سسٹم یا تو ابھی سپلائی نہیں کیا گیا یا پھر آپریشنل نہیں ہے۔

تو شام اگر خود ان حملوں کا جواب نہیں دے سکا تو پھر اس کی جوابی کارروائی کیا اور کیسے ہوگی۔

ایک راستہ تو یہ ہوگا کہ شام ملک کے اندر باغیوں کے خلاف حملے شدید کر دے تاکہ اپنی افواج کی حوصلہ افزائی کر سکے اور امریکہ اور اس اتحادیوں کو یہ پیغام دے سکے کہ اسد حکومت اپنے موقف پر قائم ہے۔

دوسرا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ اردن میں امریکی افواج، ترکی یا پھر اسرائیل پر حملہ کر کے اس لڑائی کا دائرہ وسیع کر دے۔اس صورتِ حال میں بشار الاسد حکومت کے لیے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اردن میں امریکی افواج اور ترکی خود اپنا دفاع کر سکتا ہے۔

دونوں ہی ممالک میں میزائل شکن نظام موجود ہے اور اسرائیل پر حملے کے امکان کم ہیں کیونکہ شام کی فوج خانہ جنگی میں الجھی ہوئی ہے۔

اسرائیل کے خلاف حملہ ایک بڑی جوابی کارروائی میں تبدیل ہو سکتا ہے جو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جو نہ تو دمشق کے حق میں ہوگا اور نہ ہی ایران کے حق میں۔

شام دوسرے ممالک میں امریکی اور مغربی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے حزب اللہ کا استعمال کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں