’شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شام کی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔‘

اس سے پہلے امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کا کہنا تھا کہ صدر براک اوباما کی جانب سے شام پر حملے کے احکامات کی صورت میں امریکی افواج حملے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم نے صدر کے کسی بھی حکم پر عمل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں‘۔

اس سے قبل شام کے وزیر خارجہ ولید معلم کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ شامی افواج نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

امریکہ اور اس کے حلیف شام میں گذشتہ ہفتے کے کیمیائی حملے کے جواب میں ملک میں عسکری مداخلت پر غور کر رہے ہیں۔

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع نے صدر اوباما کو ’ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز‘ سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے جون سوپل کو بتایا کہ صدر اوباما ’صدر تمام صورتحال سے واقف ہیں اور ہم تیار ہیں۔‘

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی جانب سے اکٹھے کیے جا رہے شواہد سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ شام کی حکومت گزشتہ ہفتے ہونے والے کیمیائی حملوں میں ذمہ دار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ شام میں لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں‘۔

’میرے خیال سے ان معلومات سے پتہ چل جائے گا گا کہ ان ہتھیاروں کا استعمال باغیوں نے نہیں کیا اور اس بات کے ٹھوث شواہد ہوں گے کہ اس میں شام کی حکومت ملوث تھی۔ لیکن ہم حقایق کے سامنے آنے کا انتظار کریں گے‘۔

چک ہیگل کا بیان اس وقت آیا جب ایک دن قبل ہی وزیر خارجہ سینیٹر جان کیری نے شام کی حکومت پر دمشق کے نواح میں گولا باری کر کے کیمیائی حملوں کے شواہد کو ختم کرنے کا الزام لگایا تھا۔

پیر کو معائنہ کاروں کی ٹیم متاثرہ علاقے کی جانب جاتے ہوئے فائرنگ کے زد میں آ گئی تھی۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک سخت بیان میں شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تردید‘ استعمال کی مذمت کی ہے۔ جان کیری نے دمشق کے مضافات میں ان حالیہ حملوں کو’اخلاقی بد تہذیبی‘ قرار دیا۔

جان کیری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو کچھ ہم نے شام میں گزشتہ ہفتے دیکھا ہے اس سے دنیا کے ضمیر کو ضرور جاگنا چاہیے۔‘

شامی حکومت اور حزبِ مخالف دونوں ایک دوسرے پر اس کیمیائی حملے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

شام کے خلاف مغربی ممالک کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے پیش نظر ایشیا اور یورپ کی شیئر مارکیٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دبئی میں دو ہزار نو میں آنے والے معاشی بحران کے بعد سے شیئرز کی قیمت میں سب سے زیادہ سات فیصد کمی آئی ہے۔ ایشیا کے دوسری مارکیٹوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ یورپ کی مارکیٹ میں اوسطاً ساڑھے ایک فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

خام تیل کے ایک بیرل کی قیمت ایک سو بارہ امریکی ڈالر سے بڑھ گئی ہے۔ تیل کے بیرل کی قیمت میں اضافہ شام پر حملے سے خطے کی تیل کی برآمدات متاثر ہونے کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی بارے میں